ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

انٹرنیشنل

🇺🇸🇮🇷 امریکا اور ایران کے درمیان فی الحال کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، وائٹ ہاؤس کا واضح مؤقف؛ صدر ٹرمپ کی ترجیحات اور قطر کی ثالثی کی کوششیں جاری

🇺🇸🇮🇷 امریکا اور ایران کے درمیان فی الحال کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، وائٹ ہاؤس کا واضح مؤقف؛ صدر ٹرمپ کی ترجیحات اور قطر کی ثالثی کی کوششیں جاری
Spread the love

واشنگتن/بین الاقوامی ڈیسک: وائٹ ہاؤس نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے یا کسی نئے معاہدے کے لیے کوئی براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے، اور واشنگتن کی توجہ اس وقت تہران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے پر مرکوز ہے۔

📌 وائٹ ہاؤس کا مؤقف اور صدر ٹرمپ کی ترجیحات

  • مذاکرات کی تردید: وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں تصدیق کی کہ فی الحال دونوں ممالک کے درمیان کوئی بات چیت نہیں چل رہی۔
  • بامعنی مذاکرات کی شرط: یہ صورتحال اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ اطمینان حاصل نہ کر لیں کہ ایران سنجیدگی کے ساتھ بامعنی مذاکرات کے لیے میز پر آنے کو تیار ہے۔
  • جوہری ہتھیاروں کی روک تھام: ترجمان کے مطابق صدر ٹرمپ کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔
  • فوجی اور اقتصادی آپشنز: امریکا نے ایران پر فوجی کارروائی کے بعد اب اقتصادی دباؤ کو مزید تیز کرنے پر توجہ مرکوز کرلی ہے، جبکہ صدر کے پاس فوجی کارروائی سمیت تمام آپشنز تاحال موجود ہیں۔

🌐 قطر کی ثالثی کی کوششیں اور آبنائے ہرمز کی صورتحال

  • قطری وزیراعظم کا دورہ تہران: وائٹ ہاؤس کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قطر ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی راستہ بحال کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے تہران کا دورہ کر کے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔
  • بحری راہداری اور بارودی سرنگیں: قطری اور ایرانی حکام کے درمیان بات چیت میں آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کے لیے عارضی مشترکہ بحری راہداری قائم کرنے اور آبی گزرگاہ سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کے منصوبے پر بھی غور کیا گیا۔
  • امریکی دعویٰ: دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ دعویٰ کر چکے ہیں کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے مرکزی بحری راستے سے بارودی سرنگیں صاف کردی ہیں، جبکہ ایران اور عمان کے درمیان بھی اس حوالے سے سفارتی مذاکرات جاری ہیں۔

📉 امریکی پابندیاں اور ایران کا شدید ردعمل

  • ثانوی پابندیوں کی تنبیہ: امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے رواں ہفتے مختلف ممالک کو تنبیہ کی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مالی روابط ختم کریں، ورنہ انہیں پابندیوں کی خلاف ورزی پر ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
  • ایرانی مؤقف: ایرانی حکام نے امریکی پابندیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں “مکمل اقتصادی جنگ” قرار دیا ہے اور عزم ظاہر کیا ہے کہ دباؤ کے باوجود تہران اپنے قومی مفادات سے ہرگز دستبردار نہیں ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *