تاریخ / مقام: اسلام آباد
بیورو رپورٹ — G24 News Online
تفصیل:
چیف جسٹس آف پاکستان، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ ججز کو کسی بھی بیرونی دباؤ سے مکمل طور پر آزاد کرنے کے لیے کوڈ آف کنڈیکٹ میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں، اور اس مقصد کے لیے پوری عدلیہ اپنے ججز کے ساتھ کھڑی ہے۔
قومی کانفرنس سے خطاب اور ماتحت عدلیہ کو خراجِ تحسین
اسلام آباد میں عدالتی نظام میں اصلاحات اور عوام کو فوری انصاف کی فراہمی کے حوالے سے منعقدہ ایک قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں ادا کریں تاکہ نوجوان ججز بہترین انداز میں انصاف کی فراہمی کو یقینی بنا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی عدالتیں نظامِ انصاف میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور انصاف کی بروقت فراہمی ناگزیر ہے۔ ضلعی عدالتوں اور ہائیکورٹس کے درمیان رابطہ کاری کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
ماتحت عدلیہ کے لیے تاریخی اعلانات اور سہولیات
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اعلان کیا کہ ملک بھر کے جوڈیشل افسران کو ہیلتھ انشورنس کی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عدالتوں کو سولر سسٹم پر منتقل کیا جا رہا ہے اور انٹرنیٹ کی بہترین سہولیات کے ساتھ ساتھ ای لائبریریز کے قیام پر بھی کام جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے 18 اضلاع سمیت مختلف علاقوں میں سولر، پانی اور انٹرنیٹ کی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں، جبکہ باقی ماندہ اضلاع میں بھی ایک ماہ کے اندر یہ سہولیات مہیا کر دی جائیں گی۔ خواتین اور بچوں کے لیے خصوصی سہولت سینٹرز بھی بنائے جا رہے ہیں۔
فنڈز کا اجرا اور شفافیت پر زور
چیف جسٹس نے انکشاف کیا کہ عدلیہ میں بہتری لانے کے لیے ‘انصاف تک رسائی’ پروگرام کے تحت رواں سال 3 ارب روپے سے زائد کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں، جبکہ ماضی میں ایکسس ٹو جسٹس پروگرام کے تحت 20 سالوں میں صرف 900 ملین جاری کیے گئے تھے۔ انہوں نے تقریب کے دوران شرائطِ ملازمت میں ہم آہنگی کے لیے ایک کمیٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ چیف جسٹس نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ عوامی اعتماد وراثت میں نہیں ملتا بلکہ یہ دیانت داری اور محنت سے حاصل ہوتا ہے، اور ماتحت عدلیہ کے ججز کو بااختیار بنانا عدلیہ کا بنیادی مقصد ہے۔
G24 News Online عدالتی، قانونی اور قومی امور سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔





gandi ghatiya adalatin