واشنگٹن/بین الاقوامی ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے غیر ملکی طلبہ کے لیے بعض انٹرن شپ اور عملی تربیتی پروگراموں کی اجازت کو محدود کرنے کی سخت کوششیں شروع کر دی ہیں۔ نئی ہدایات پر عمل نہ کرنے والی جامعات کو غیر ملکی طلبہ کے داخلے کی اجازت سے محروم کیے جانے کا بھی انتباہ جاری کیا گیا ہے۔
📌 نیا امیگریشن میمو اور اسٹوڈنٹ اینڈ ایکسچینج وزیٹر پروگرام
- رائٹرز کی رپورٹ: عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے تحت کام کرنے والے اسٹوڈنٹ اینڈ ایکسچینج وزیٹر پروگرام نے 24 اگست کو جامعات کو ایک نیا میمو جاری کیا ہے۔
- ضوابط کی خلاف ورزی کا دعویٰ: میمو میں کہا گیا ہے کہ حکام نے غیر ملکی طلبہ کے لیے Curricular Practical Training (CPT) کی ایسی اجازتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا ہے جو ممکنہ طور پر مقررہ ضوابط کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔ CPT کے ذریعے طلبہ کو اپنی تعلیم سے متعلق عملی تربیت اور بعض صورتوں میں کام کرنے کی اجازت ملتی ہے۔
- لازمی نصاب کی شرط: امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ عملی تربیت اسی وقت دی جا سکتی ہے جب وہ طالب علم کے باقاعدہ تعلیمی نصاب کا لازمی حصہ ہو۔ میمو میں خبردار کیا گیا ہے کہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کی غیر ملکی طلبہ کو داخلہ دینے کی سرٹیفیکیشن بھی ختم کی جا سکتی ہے۔
🎓 امریکی جامعات کا ردعمل اور عارضی پابندیاں
- درخواستوں پر عارضی کارروائی معطل: نئی ہدایات کے بعد بعض اہم امریکی جامعات نے غیر ملکی طلبہ کی مخصوص ورک اتھارائزیشن درخواستوں پر عارضی طور پر کارروائی روک دی ہے، جن میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس (UCLA) اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے (UC Berkeley) بھی شامل ہیں۔
- UCLA اور برکلے کا موقف: UCLA نے تصدیق کی ہے کہ اس نے بعض CPT اجازتوں کا اجرا روک دیا ہے تاکہ نئی وفاقی ہدایات کا بغور جائزہ لے کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جا سکے؛ دوسری جانب UC برکلے کے بین الاقوامی دفتر نے بتایا کہ 24 اگست کا میمو پہلے کی ہدایات کے مقابلے میں زیادہ براہ راست اور سخت پابندیوں پر مشتمل ہے۔ تاہم برکلے نے واضح کیا کہ وہ ڈگری کی لازمی ضروریات سے متعلق CPT درخواستوں پر معمول کے مطابق کارروائی جاری رکھے گا۔
- محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کا بیان: امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کا کہنا ہے کہ موجودہ ضوابط میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں کی گئی، تاہم ٹرمپ انتظامیہ کے تحت اس نظام کے کسی بھی قسم کے غلط استعمال کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
🇵🇰 پاکستانی طلبہ پر ممکنہ اثرات
- نئی پالیسی کے نفاذ سے امریکہ میں زیر تعلیم پاکستانی سمیت دیگر ممالک کے غیر ملکی طلبہ شدید متاثر ہو سکتے ہیں، خصوصاً ان طلبہ پر جو اپنی ڈگری کے دوران عملی تربیت یا انٹرن شپ کے ذریعے پیشہ ورانہ تجربہ حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں۔




