لاہور/لندن/اسپورٹس ڈیسک: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے لارڈز میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ کے پہلے روز کی کوریج کے دوران لنچ بریک میں سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان خان کا انٹرویو نشر کرنے پر برطانوی نشریاتی ادارے ‘اسکائی اسپورٹس’ کے خلاف باضابطہ طور پر شکایت درج کرا دی ہے۔
📌 اسکائی اسپورٹس پر انٹرویو اور پی سی بی کا اعتراض
- برطانوی میڈیا کا انکشاف: مؤقر برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ کے مطابق اسکائی اسپورٹس نے لارڈز ٹیسٹ کے دوران عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان خان کا انٹرویو نشر کیا تھا جس میں انہوں نے اپنے والد کی قید، حکومت کے مبینہ ناروا سلوک اور انہیں تنہائی میں رکھے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔
- حکومت پر تنقید کا پلیٹ فارم: پی سی بی کی شکایت کی مکمل نوعیت اگرچہ صیغہ راز میں ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ اعتراض اسکائی اسپورٹس کی جانب سے ایسے افراد کو سیاسی نوعیت کے بیانات کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنے پر اٹھایا گیا ہے۔
- اسکائی اسپورٹس کا ردعمل: برطانوی نشریاتی ادارے نے شکایت موصول ہونے کی تصدیق کی ہے، تاہم اس پر مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
⚠️ لارڈز ٹیسٹ کے دوران کشیدگی، ای سی بی کی مداخلت اور برطانوی دفترِ خارجہ سے رابطہ
- کھلاڑیوں کو میدان میں بھیجنے سے روکنے کی دھمکی: اطلاعات کے مطابق پی سی بی حکام نے انٹرویو نشر ہونے کے بعد اسے رکوانے کی بھرپور کوشش کی تھی، اور تنازعہ بڑھنے پر پاکستانی حکام نے کھلاڑیوں کو دوبارہ میدان میں بھیجنے سے روکنے کی دھمکی بھی دی تھی۔
- ای سی بی کا کردار: انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کے حکام نے بروقت مداخلت کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کیا، اور پی سی بی نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستانی ٹیم لارڈز ٹیسٹ کے دوسرے دن کے کھیل میں معمول کے مطابق حصہ لے گی۔
- برطانوی دفترِ خارجہ تک رسائی: ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام کی ناراضی اس معاملے پر اب بھی برقرار ہے اور انہوں نے یہ سنگین مسئلہ برطانوی حکومت کے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس کے سامنے بھی اٹھا دیا ہے۔
🏥 عمران خان کی قید اور جیل کی صورتحال
- تین سال سے اسیری: واضح رہے کہ عمران خان گزشتہ تین سال سے قید میں ہیں۔ ان کے وکلا اور خاندان کی جانب سے بارہا مؤقف اپنایا گیا ہے کہ جیل میں ان کی حالت تشویشناک ہے اور ان کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔
- اسپتال منتقلی: گزشتہ ہفتے 73 سالہ عمران خان کو طبی معائنے اور علاج کے لیے اسپتال بھی منتقل کیا گیا تھا، تاہم کچھ دیر بعد انہیں واپس جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔




