تہران/بین الاقوامی ڈیسک: ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے عمان کے ساتھ ایک مفاہمت طے پا گئی ہے، تاہم اس پر مکمل عمل درآمد اس بات سے مشروط ہوگا کہ امریکا پہلے اپنے ماضی کے وعدے پورے کرے۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے معاملے میں کوئی جلد بازی نہیں کرے گا اور اسٹریٹجک گزرگاہ پر اس کا سخت کنٹرول برقرار ہے۔
📌 عمان کے ساتھ مفاہمت اور امریکی وعدوں کی شرط
- عمان کے ساتھ طے پانے والے انتظامات: انادولو ایجنسی اور تسنیم نیوز کے مطابق ایرانی نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے بتایا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے گزرنے کے انتظامات پر اتفاق ہو چکا ہے، لیکن یہ مفاہمت خود بخود نافذ نہیں ہوگی۔
- واشنگٹن کی ذمہ داری: غریب آبادی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اس مفاہمت پر عمل درآمد کے لیے دوسری جانب، بالخصوص امریکا کو اپنے وعدے پورے کرنا ہوں گے۔ جب امریکی وعدے پورے کیے جائیں گے تو ایران بھی اس کے مطابق ضروری اقدامات کرے گا، اور اگر واشنگٹن سفارت کاری کے راستے پر واپس آنا چاہتا ہے تو اسے ماضی کے اقدامات کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔
⚓ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال اور ایرانی کنٹرول
- راستہ فی الحال بند ہے: ایرانی نائب وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ فی الحال آبنائے ہرمز بند ہے، اور اگر کوئی بحری جہاز اس راستے سے گزرنا چاہے تو اسے لازمی طور پر ایران کے ساتھ رابطے اور اسلامی جمہوریہ ایران کی اجازت و تعاون سے گزرنا ہوگا۔
- مسترد شدہ دعوے: انہوں نے ان تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا کہ بعض بحری جہاز تہران کے ساتھ رابطے کے بغیر اس راستے سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج آبنائے ہرمز میں ہر بحری جہاز کی نقل و حرکت پر مکمل اور باریک بین نظر رکھے ہوئے ہیں۔
- دفاعی کارروائیاں جاری: ایران اپنی “دفاعی کارروائیاں” جاری رکھے گا اور ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات بھی کرتا رہے گا۔
🌐 پاکستان اور قطر کا ثالثی کردار اور ’اسلام آباد معاہدہ‘
- سفارتی رابطے: غریب آبادی نے انکشاف کیا کہ قطر اور پاکستان کے ساتھ ایران کی حالیہ ملاقاتیں دونوں برادر ممالک کے ثالثی کردار کے تناظر میں ہوئیں، جن کا مقصد یہ جائزہ لینا تھا کہ ’’اسلام آباد مفاہمت‘‘ کے تحت طے پانے والے وعدوں پر عمل درآمد دوبارہ شروع کرنا کس حد تک ممکن ہے۔
- عالمی اہمیت: واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے دنیا کا سب سے حساس اور اہم سمندری راستہ ہے، اور اس کی صورتحال میں کسی بھی قسم کی تبدیلی عالمی توانائی کی قیمتوں پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔




