لاہور/انٹرٹینمنٹ ڈیسک: پاکستانی ٹیلی ویژن اور فلم کے معروف اور ورسٹائل اداکار سہیل سمیر اپنی نئی سسپنس تھرلر شارٹ فلم ’دوسری عورت‘ کے ایک متنازع اور رومانوی منظر کے باعث سوشل میڈیا صارفین کی شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔ فلم کے یہ مناظر انٹرنیٹ پر تیزی سے وائرل ہو رہے ہیں، جس پر ناظرین کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

📌 شارٹ فلم ’دوسری عورت‘ اور متنازع مناظر
- سسپنس تھرلر پراجیکٹ: حال ہی میں ریلیز ہونے والی شارٹ فلم ’دوسری عورت‘ بنیادی طور پر ایک سسپنس تھرلر کہانی پر مبنی ہے، تاہم فلم کا ایک بولڈ رومانوی سین کہانی سے ہٹ کر سوشل میڈیا کی زینت بن گیا ہے۔
- صارفین کی ناپسندیدگی: سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے اس منظر کو پاکستانی خاندانی اقدار اور روایتی مواد کے لیے نامناسب قرار دیا ہے، جس کے بعد اس موضوع پر بحث چھڑ گئی ہے۔

💬 سوشل میڈیا پر ملا جلا اور سخت ردعمل
- دوسری انڈسٹریز سے موازنہ: بعض صارفین نے اس قسم کے مناظر کا موازنہ بھارتی فلموں اور ترک سیریز کے مواد سے کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ ہمارے مقامی پلیٹ فارمز پر اس طرح کے بولڈ مناظر کی گنجائش کیوں دی جا رہی ہے۔
- سنسرشپ پر سوالات: صارفین کی بڑی تعداد نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ اس قسم کے مناظر کو ڈیجیٹل یا ٹیلی ویژن اسکرینز پر نشر کرنے کی اجازت کیسے دی گئی۔

🎭 سہیل سمیر کا کیریئر اور مداحوں کی حیرت
- ورسٹائل اداکاری: واضح رہے کہ سہیل سمیر کا شمار پاکستان کے انتہائی سنجیدہ اور ورسٹائل اداکاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے ’سنو چندا‘، ’تیرے بن‘، ’عشق ہوا‘ اور ’دایان‘ سمیت متعدد مشہور ڈراموں میں اپنی شاندار اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔
- مداحوں کا ردعمل: مزاحیہ کرداروں سے لے کر سنجیدہ اور منفی کرداروں تک ناظرین کی جانب سے ہمیشہ ان کی اداکاری کو سراہا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کی اس نئی شارٹ فلم کے بولڈ سینز پر ان کے مداح بھی خاصے حیران نظر آ رہے ہیں۔




