مانسہرہ/سیاحت و کرائم ڈیسک: صوبہ خیبرپختونخوا کے بلند و بالا پہاڑی سلسلے میں واقع چار ہزار میٹر بلند چوٹی ’موسیٰ کا مصلیٰ‘ پر ریس لگانے کے دوران لاپتہ ہونے والے آئرش شہری الیگزینڈر مارک ہیرس کی لاش چار روز کی طویل جدوجہد اور ریسکیو آپریشن کے بعد گہری کھائی سے برآمد کر لی گئی ہے۔
📌 حادثے کا پس منظر اور ریس لگانے کی لرزہ خیز تفصیلات
- لاپتہ ہونے کا واقعہ: 29 اگست کو آئرش شہری الیگزینڈر مارک ہیرس، جو اسلام آباد میں مقیم اور ایک غیر سرکاری تنظیم سے وابستہ تھے، اپنے برطانوی ساتھی ایلن ڈیوڈ کوپر کلیڈون کے ہمراہ مانسہرہ کی سیرن وادی میں واقع موسیٰ کا مصلیٰ کی ٹریکنگ کے لیے گئے تھے۔
- ”پہلے کون پہنچتا ہے“ کی ریس: ایس پی شاہ نواز خان کے مطابق واپسی کے دوران الیگزینڈر اور ان کے ساتھی ایلن نے آپس میں ریس لگائی تھی کہ ’’پہلے کون پہنچتا ہے‘‘۔ الیگزینڈر ایک ماہر ٹریکر سمجھے جاتے تھے اور تھوڑی ہی دیر میں تیز دوڑتے ہوئے آگے نکل گئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے۔
- ساتھی کی لاعلمی: ایلن کا خیال تھا کہ الیگزینڈر ان سے ایک گھنٹہ قبل نیچے پہنچ گئے ہوں گے، تاہم جب وہ ماندا گچھا میں اپنے ہوٹل پہنچے تو الیگزینڈر وہاں موجود نہیں تھے۔ بعد میں جب وہ سو کر اٹھے اور دوست کو غائب پایا تو مقامی پولیس کو اطلاع دی۔
🚁 4 روزہ ریسکیو آپریشن اور لاش کی برآمدگی
- مشکل ترین آپریشن: ریسکیو 1122، مانسہرہ پولیس، محکمہ جنگلات اور مقامی افراد سمیت تقریباً 200 افراد نے اس بڑے تلاش کے آپریشن میں حصہ لیا۔ مسلسل بارش، شدید دھند، گہری کھائیوں اور تنگ پہاڑی راستوں کے باعث امدادی ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
- ڈرون کی مدد: خراب موسم اور پیچیدہ جغرافیائی خدوخال کے پیش نظر امدادی ٹیموں نے ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، جس کی مدد سے پراچہ کے علاقے میں ایک گہری کھائی میں لاش کی نشاندہی کی گئی۔
- ترجمان ریسکیو 1122 کا بیان: ترجمان ریسکیو 1122 بلال احمد فیضی نے تصدیق کی ہے کہ طویل آپریشن کے بعد لاش کو جچھہ منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں سے اسے مانسہرہ کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال میں پوسٹ مارٹم کے بعد قانونی کارروائی کے لیے اسلام آباد روانہ کیا جائے گا۔
⚠️ بغیر گائیڈ کے سفر اور انتظامی انتباہ
- مقامی پورٹر سے انکار: مانسہرہ کے ڈپٹی کمشنر خالد اقبال کے مطابق الیگزینڈر نے موسیٰ کا مصلیٰ سر کرنے کے لیے کسی مقامی پورٹر یا گائیڈ کی خدمات حاصل کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ وہ اس علاقے سے پہلے ہی واقف ہیں اور ٹریکنگ کر چکے ہیں۔
- جی پی ایس بے کار ثابت: پولیس کے مطابق الیگزینڈر کے پاس جی پی ایس (GPS) سسٹم بھی موجود تھا مگر وہ اس حادثے میں کوئی مدد فراہم نہیں کر سکا۔
- خطرناک ٹریک: حکام کا کہنا ہے کہ موسیٰ کا مصلیٰ کی چوٹی (جو چار ہزار میٹر سے زائد بلند ہے) کا علاقہ بڑی کھائیوں، خطرناک چٹانوں اور تنگ راستوں پر مشتمل ہے، اور یہ ابتدائی درجے کے ٹریکرز کے لیے انتہائی خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔




