واشنگٹن/انٹرنیشنل ڈیسک: امریکا میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بے لگام پھیلاؤ اور اس کے ممکنہ تباہ کن اثرات کے پیش نظر ایک انتہائی سخت قانون سازی سامنے آئی ہے۔ امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے ایک نئے بل میں اے آئی پر مستقل پابندی عائد کرنے اور سپر انٹیلی جنس کی تیاری کو روکنے کے لیے بین الاقوامی معاہدے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
📌 بل کے اہم نکات اور سپر انٹیلی جنس پر پابندی کی تجویز
- مستقل پابندی اور عالمی معاہدے: اس نئے بل میں اے آئی پر مستقل پابندی عائد کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر ایسے جرات مندانہ معاہدے کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جن کا بنیادی مقصد سپر انٹیلی جنس کی تیاری اور اس کے خطرناک پھیلاؤ کو مؤثر طریقے سے روکنا ہے۔
- قانون سازی کا مقصد: اس اقدام کا مقصد ٹیکنالوجی کی اندھی دوڑ میں انسانی حقوق، سلامتی اور معاشرتی اقدار کو محفوظ بنانا ہے۔
⚠️ برنی سینڈرز اور گریگ کاسار کے سخت بیانات
- برنی سینڈرز کا انتباہ: معروف امریکی رہنما برنی سینڈرز نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے قابو آرٹیفیشل انٹیلی جنس انسانی آزادی اور مجموعی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتی ہے، اس لیے اس ٹیکنالوجی کے اندھا دھند استعمال اور ترقی پر فوری اور سخت ترین اقدامات اٹھانا ناگزیر ہے۔
- فوڈ ٹرک سے بھی کم ریگولیٹڈ: دوسری جانب رکن کانگریس گریگ کاسار نے اے آئی کی موجودہ نگرانی پر شدید تنقید کرتے ہوئے طنز کیا کہ موجودہ دور میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا نظام ایک عام ”فوڈ ٹرک سے بھی کم ریگولیٹڈ“ ہے، جس پر کوئی مؤثر ضابطہ کار موجود نہیں۔
🌐 ملازمتیں، پرائیویسی اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے خدشات
- عالمی مباحثے اور خطرات: اے آئی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اور بے لگام استعمال کے باعث امریکا سمیت دنیا بھر میں اس کی کڑی نگرانی، انسانی ملازمتوں کے استحصال، ڈیجیٹل پرائیویسی کے تحفظ اور قومی سلامتی سے متعلق سنگین خدشات پر ایک وسیع عالمی بحث جاری ہے۔




