نئی دہلی/انٹرنیشنل ڈیسک: بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے علاقے ستیا نکیتن (قریب دہلی یونیورسٹی ساؤتھ کیمپس) میں طلبہ کے زیر استعمال ایک نجی ہاسٹل اور پی جی کی پانچ منزلہ عمارت اچانک گرنے سے کم از کم 7 طلبہ جاں بحق ہو گئے ہیں، جبکہ متعدد افراد کے اب بھی ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے ریسکیو اور سرچ آپریشن تیزی سے جاری ہے۔
📌 حادثے کی تفصیلات اور ریسکیو آپریشن
- عمارت کا منہدم ہونا: دہلی کے حساس علاقے ستیا نکیتن میں قائم تقریباً چار دہائیوں پرانی پانچ منزلہ عمارت اتوار کی دوپہر اچانک تاش کے پتوں کی طرح زمین بوس ہو گئی، جس میں بڑی تعداد میں باہر سے آئے ہوئے طلبہ رہائش پذیر تھے۔
- اموات اور زخمی افراد: ریسکیو حکام اور ہسپتال کے ذرائع کے مطابق اس دلخراش حادثے میں اب تک 7 طلبہ کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ ریسکیو ٹیموں نے ملبے سے اب تک 12 افراد کو بحفاظت نکال کر ہسپتال منتقل کر دیا ہے جہاں بعض کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔
- امدادی کارروائیاں: قومی ڈیزاسٹر رسپانس فورس (NDRF)، پولیس اور فائر سروسز کی ٹیمیں بھاری مشینری اور دستی آلات کی مدد سے دن رات ملبہ ہٹانے اور پھنسے ہوئے طلبہ کو باہر نکالنے کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہی ہیں۔
⚙️ تہہ خانے میں مرمتی کام اور ابتدائی تحقیقات
- بیسمنٹ میں پانی اور تعمیراتی کام: ابتدائی اطلاعات اور مقامی رہائشیوں کے مطابق عمارت کے تہہ خانے (بیسمنٹ) میں پانی جمع تھا اور وہاں مبینہ طور پر مرمتی و تعمیراتی کام جاری تھا، جس کی وجہ سے عمارت کی بنیادیں کمزور ہوئیں اور یہ بڑا حادثہ پیش آ گیا۔
- مجسٹیریل انکوائری اور قانونی کارروائی: دہلی کی حکومت نے اس المناک واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے مجسٹیریل انکوائری کا حکم دے دیا ہے، جبکہ پولیس نے عمارت کے مالک کے خلاف غفلت کا مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔




