تاریخ / مقام: اسلام آباد / لاہور
بیورو رپورٹ — G24 News Online
تفصیل:
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے معروف صحافی اور ویلاگر بلال غوری کے جسمانی ریمانڈ میں 2 دن کی مزید توسیع کر دی ہے.
عدالت میں پیشی اور این سی سی آئی اے کی استدعا
صحافی بلال غوری کو 3 دن کا جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں کیس کی باقاعدہ سماعت کی گئی. سماعت کے دوران این سی سی آئی اے (NCCIA) کی جانب سے عدالت سے مزید 6 دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی.
وکیلِ صفائی کے دلائل
کیس کے وکیل عمران شفیق نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ ریکوری کا عمل مکمل ہو چکا ہے، اب مزید ریمانڈ کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے کہا کہ جب موبائل، لیپ ٹاپ اور تمام متعلقہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پہلے ہی تفتیشی ادارے کے قبضے میں ہیں تو مزید جسمانی ریمانڈ کس بنیاد پر مانگا جا رہا ہے؟ وکیل عمران شفیق نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے یہ ثابت کیا جائے کہ بیان غلط کیسے ہے، آپ نے ان سے اس حوالے سے کوئی سوال ہی نہیں کیا.
بلال غوری کا بیان اور عدالت کا فیصلہ
عدالت میں گفتگو کرتے ہوئے بلال غوری نے مؤقف اپنایا کہ ان کے تمام اکاؤنٹس، موبائل اور لیپ ٹاپ پہلے ہی اداروں کے پاس موجود ہیں. دوسری جانب تفتیشی افسر نے مؤقف اپنایا کہ اکاؤنٹس پر ڈبل ویریفیکیشن لگی ہوئی ہے جس کی وجہ سے لاگ ان کرنے میں دشواری کا سامنا ہے. اس پر بلال غوری نے طنزیہ اور پریشان کن انداز میں کہا کہ “اب یہی بچا ہے کہ یہ میرے منہ سے زبان کھینچ لیں.”
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے بلال غوری کے مزید جسمانی ریمانڈ پر فیصلہ محفوظ کر لیا. بعد ازاں عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے بلال غوری کے جسمانی ریمانڈ میں 2 دن کی توسیع کر دی اور انہیں دوبارہ 12 ستمبر کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا.
G24 News Online عدالتی کارروائی اور قومی خبروں کی تمام اپڈیٹس اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




