تاریخ / مقام: اسلام آباد
بیورو رپورٹ — G24 News Online
تفصیل:
سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ میں خاتون کو خلع پر پچاس فیصد حق مہر واپس کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے خلاف اپیل پر سماعت کی گئی. یہ سماعت جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں پانچ رکنی شریعت اپیلیٹ بینچ نے کی.
معاملہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے نوٹس میں لانے کا حکم
عدالت نے اس کیس کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے نوٹس میں لانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ یہ دیکھا جائے کہ اس کیس کو چلانا ہے یا نہیں، اور یہ معاملہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے سامنے رکھا جائے. جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ خاتون کے خلع لینے پر پچاس فیصد واپسی کا قانون صرف پنجاب نے بنایا ہے، اور پنجاب میں اس وقت خاتون وزیر اعلیٰ ہیں. انہوں نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے پوچھا کہ وہ اس کیس کو چلانا چاہتی ہیں یا نہیں؟ کیا پنجاب حکومت خواتین کے حقوق کے خلاف اس قانون کی پیروی کرنا چاہتی ہے؟
حکومت عورت کے فیصلے کا اختیار کیسے طے کرسکتی ہے؟
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ پنجاب حکومت کو یہ کیس واپس لے لینا چاہیے. خلع پر کیا دینا ہے اور کتنا دینا ہے، یہ عورت کا فیصلہ ہے. قرآن نے جو اختیار عورت کو دیا ہے حکومت وہ کیسے چھین سکتی ہے؟ حکومت قانون سازی کرکے عورت کے فیصلے کا اختیار کیسے طے کرسکتی ہے؟
عورت کے مقام اور حقوق پر کمپرومائز نہیں ہوگا
جسٹس شاہد وحید نے مزید ریمارکس دیے کہ عورت کے مقام کو کم کرنے پر عدالت کمپرومائز نہیں کرے گی. عورت کو دیا گیا حق مہر اس کی ملکیت ہوتی ہے، اور کیا حق مہر کو شرط کے ساتھ مشروط کیا جاسکتا ہے؟ دوسری جانب جسٹس ملک شہزاد نے کہا کہ جس کام سے منع نہیں کیا گیا وہ غیر اسلامی کیسے ہوسکتا ہے؟
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت 8 اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے. واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے فیملی ایکٹ 2015 میں ترامیم کی تھیں جن کے ذریعے خلع پر حق مہر واپسی کی حد کا تعین کیا گیا تھا، جسے وفاقی شرعی عدالت نے خلاف شریعت قرار دیا تھا، اور اس کے خلاف پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے.
G24 News Online عدالتی اور قانونی امور سے جڑی تمام اہم خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




