تاریخ / مقام: واشنگٹن
بیورو رپورٹ — G24 News Online
تفصیل:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری موجودہ جنگ کے ان کی مدتِ صدارت کے اختتام تک جاری رہنے کا کوئی امکان نہیں ہے، جبکہ دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے بعض اعلیٰ حکام نے اس کے برعکس طویل تنازع کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔
ٹرمپ کا پُراعتماد مؤقف اور انتخابات کی توقعات
امریکی میڈیا کے مطابق، صدر ٹرمپ نے ایران جنگ کے مستقبل کے حوالے سے اپنے مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنازع اتنا طویل نہیں ہوگا کہ ان کی صدارتی مدت کے خاتمے تک کھنچ جائے۔ ٹرمپ اس سے قبل بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ یہ جنگ نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد اپنے انجام کو پہنچ جائے گی۔ ان کے مطابق ایران زیادہ دیر تک امریکی دباؤ برداشت نہیں کر سکے گا، اور اس فوجی مہم جوئی کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے سختی سے روکنا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام کے خدشات
دوسری جانب صدر ٹرمپ کے اس پُراعتماد مؤقف کے برعکس وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام نے نجی طور پر جنگ کے طویل ہونے کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت اہم حکام نے صدر ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ ایران امریکی دباؤ کے خلاف طویل مزاحمت جاری رکھ سکتا ہے اور تنازع ان کی مدتِ صدارت کے اختتام تک بھی جاری رہ سکتا ہے۔ اس طرح صدر ٹرمپ کے جلد جنگ ختم ہونے کے دعوے اور اعلیٰ امریکی حکام کے طویل تنازع کے خدشات کے درمیان ایک واضح تضاد سامنے آ رہا ہے۔
عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر اثرات
اس جاری تنازع اور ایران جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ میں فوجی کشیدگی عروج پر ہے، جس نے عالمی توانائی کی منڈی کو بھی شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہونے اور خطے میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں حالیہ دنوں میں 100 ڈالر فی بیرل کی حد عبور کر چکی ہیں۔
G24 News Online عالمی امور اور بین الاقوامی خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




