تاریخ / مقام: اسلام آباد
بیورو رپورٹ — G24 News Online
تفصیل:
ملک میں ایک طرف جہاں انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) سے جان چھڑانے اور بجلی کے نرخوں میں کمی کے دعوے کیے جا رہے ہیں، وہیں دوسری جانب یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ حکومت کی جانب سے طویل المدتی یعنی 30 اور 40 سال کے نئے معاہدے کیے گئے ہیں۔
حکومتی دعوے اور نئے معاہدوں کی تفصیلات
سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق کون کون سی آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے کب تک موثر ہیں، اس کا پول کھل گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق موجودہ حکومت کی جانب سے ہی گزشتہ برس (2025 میں) چار مختلف آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدے کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس سے توانائی کے شعبے میں جاری حکومتی پالیسیوں پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
جامشورو کول پاور پلانٹ کے ساتھ 30 سالہ معاہدہ
موصولہ معلومات کے مطابق، موجودہ حکومت نے توانائی کے منصوبوں کے سلسلے میں ‘جامشورو کول’ نامی پاور پلانٹ کے ساتھ 30 جولائی 2025 کو باضابطہ طور پر 30 سالہ مدت کا ایک نیا معاہدہ طے کیا ہے۔ اس قسم کے طویل المدتی معاہدوں سے جہاں ایک طرف بجلی کی پیداوار کے تسلسل کو یقینی بنانے کی بات کی جاتی ہے، وہیں دوسری طرف معاشی ماہرین اور عوامی حلقوں کی جانب سے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
G24 News Online معاشی، سیاسی اور قومی امور سے جڑی تمام اہم اور مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




