تاریخ / مقام: واشنگٹن
بیورو رپورٹ — G24 News Online
تفصیل:
11 ستمبر 2001 کے تاریخی واقعات کے بعد امریکا کی زیرِ قیادت لڑی جانے والی طویل المدتی جنگوں اور فوجی کارروائیوں کو 25 سال مکمل ہو چکے ہیں، جن کے نتیجے میں دنیا بھر میں کروڑوں انسانی زندگیاں تباہ اور گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
جانی نقصان اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی
ایک بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ڈھائی دہائیوں کے دوران جاری رہنے والی ان جنگی مہمات میں 45 لاکھ سے 47 لاکھ افراد براہِ راست یا بالواسطہ طور پر موت کے منہ میں چلے گئے۔ اس لرزہ خیز تباہی کے نتیجے میں دنیا بھر میں تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ سے زائد شہری اپنے آبائی گھر بار چھوڑنے اور دربدر ہونے پر مجبور ہوئے۔
مختلف ممالک میں انسانیت سوز نقصانات
رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، افغانستان میں 2001 سے شروع ہونے والی دو دہائیوں پر محیط جنگ نے ایک لاکھ 76 ہزار افراد کی جان لی۔ اسی طرح 2003 میں عراق پر کیے گئے غیر قانونی حملے کے نتیجے میں 3 لاکھ 15 ہزار سے زائد شہری براہِ راست ہلاکتوں کا شکار ہوئے، جس نے پورے خطے کو شدید عدم استحکام اور تباہی میں دھکیل دیا۔
علاوہ ازیں، امریکی فوج نے پاکستان، یمن، صومالیہ، لیبیا اور شام جیسے ممالک میں متعدد ڈرون اور فضائی حملے کیے ہیں۔ داعش کے خلاف جاری مبینہ مہم کے بارے میں امریکی حکام نے صرف 1417 شہری ہلاکتوں کا اعتراف کیا ہے، تاہم تحقیقاتی رپورٹ میں یہ سنسنی خیز انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ دراصل تعداد 8264 سے 13360 کے درمیان ہو سکتی ہے۔
امریکی فوجیوں کے جانی نقصانات اور معاشی بوجھ
جنگ کے ان طویل برسوں میں جہاں لاکھوں بے گناہ شہری لقمہ اجل بنے، وہیں امریکی فوجیوں کو بھی بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ صرف افغانستان میں 2500 امریکی فوجی ہلاک اور 20 ہزار زخمی ہوئے، جبکہ عراق جنگ میں 3481 اہلکار ہلاک اور 31 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ ان ہولناک جنگوں پر امریکی حکومت نے اب تک 5.8 کھرب ڈالر خرچ کیے ہیں، جبکہ سابق فوجیوں کی بحالی اور طبی دیکھ بھال پر مزید 2.2 کھرب ڈالرز خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔
معاشرتی اور طویل مدتی اثرات
رپورٹ کے آخر میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ امریکی جنگوں کے منفی اثرات صرف فوری ہلاکتوں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ ذہنی امراض، خودکشیوں کی بڑھتی ہوئی شرح، شدید معاشی بحران اور طویل مدتی بے گھری کی صورت میں آج بھی متاثرہ خطসমূح کے معاشروں پر شدید انداز میں مرتب ہو رہے ہیں۔
G24 News Online بین الاقوامی امور اور تاریخی رپورٹس سے جڑی تمام مصدقہ معلومات اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




