تاریخ / مقام: اسلام آباد / پشاور
بیورو رپورٹ — G24 News Online
تفصیل:
خیبرپختونخوا کو دہشتگردی کے حوالے سے انتہائی حساس قرار دینے کے بعد وفاقی حکومت نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے 6 ریجنز کے 26 اضلاع کو باضابطہ طور پر ’ہارڈ ایریا‘ قرار دے دیا ہے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا خط اور الاؤنس کی تفصیلات
چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ خط موصول ہو گیا ہے۔ خط کے مطابق دہشتگردی سے متاثرہ ان اضلاع میں خدمات انجام دینے والے انتظامی اور پولیس کے وفاقی افسران کے لیے خصوصی ’سیکیورٹی رسک الاؤنس‘ کی منظوری دی گئی ہے۔
یہ الاؤنس متعلقہ افسر کی بنیادی تنخواہ کا 250 فیصد ہوگا، جس کی ادائیگی براہِ راست وفاقی حکومت کرے گی اور اس پر انکم ٹیکس بھی لاگو ہوگا۔ سیکیورٹی رسک الاؤنس کا نفاذ یکم جولائی 2026 سے ہوگا، تاہم معطلی، او ایس ڈی (OSD)، جوائننگ ٹائم اور ٹریننگ کے دوران یہ الاؤنس نہیں دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ یہ سیکیورٹی رسک الاؤنس پنشن اور گریجویٹی کے حساب میں شمار نہیں ہوگا۔ افسر کے دوسرے علاقے میں تبادلے کی صورت میں یہ الاؤنس فوری طور پر بند کر دیا جائے گا۔
متاثرہ اضلاع کی فہرست اور استثنیٰ
اعلامیے کے مطابق سیکیورٹی رسک الاؤنس کے لیے نامزد کردہ متاثرہ اضلاع میں مندرجہ ذیل علاقے شامل ہیں:
- پشاور ریجن: پشاور، خیبر، مردان، چارسدہ، مہمند اور نوشہرہ۔
- کوہاٹ ریجن: کوہاٹ، ہنگو، کرک، کرم اور اورکزئی۔
- بنوں و ڈیرہ اسماعیل خان ریجن: بنوں، لکی مروت، شمالی وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر۔
- ملاکنڈ و دیگر ریجنز: سوات، بونیر، شانگلہ، باجوڑ، دیر اپر، دیر لوئر، چترال اپر اور چترال لوئر۔
دوسری جانب، ضلع صوابی اور ہزارہ ڈویژن کے افسران کو سیکیورٹی رسک الاؤنس کی اس فہرست میں شامل نہیں کیا گیا ہے، لہذا انہیں یہ الاؤنس نہیں ملے گا۔
G24 News Online انتظامی، قومی اور سیکیورٹی امور سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




