ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

پاکستان

راولپنڈی؛ وارڈن کی موجودگی میں وکیل کا موٹرسائیکل سوار پر تشدد، ویڈیو وائرل ہونے پر سی ٹی او کا نوٹس اور وکیل کا مؤقف سامنے آگیا! ⚖️🚗

راولپنڈی؛ وارڈن کی موجودگی میں وکیل کا موٹرسائیکل سوار پر تشدد، ویڈیو وائرل ہونے پر سی ٹی او کا نوٹس اور وکیل کا مؤقف سامنے آگیا! ⚖️🚗
Spread the love

تاریخ / مقام: راولپنڈی

بیورو رپورٹ — G24 News Online

تفصیل:

راولپنڈی کے مصروف ترین علاقے صدر میں ایک لگژری گاڑی میں سوار وکیل کی جانب سے ٹریفک وارڈن کی موجودگی میں ایک موٹرسائیکل سوار پر تشدد کیے جانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد محکمہ پولیس میں ہلچل مچ گئی ہے، جس پر سی ٹی او راولپنڈی نے سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ وارڈن کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے جبکہ دوسری جانب فریقِ دوم یعنی وکیل کا مؤقف بھی سامنے آ گیا ہے۔

واقعے کا پس منظر اور سی ٹی او کا نوٹس

پولیس کے مطابق یہ واقعہ راولپنڈی کے علاقے صدر میں پیش آیا جہاں موٹرسائیکل سوار کی جانب سے مبینہ طور پر مختلف اوقات میں اوپر تلے گاڑی کو ٹکر مارنے پر تنازع پیدا ہوا۔ وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈیوٹی ختم کرکے واپس پولیس لائن جانے والا ایک ٹریفک وارڈن بھی موقع پر موجود ہے، جبکہ گاڑی میں سوار وکیل موٹرسائیکل سوار پر ہاتھ اٹھا رہے ہیں۔

ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے سی ٹی او راولپنڈی فرحان اسلم نے شاہراہ پر دو فریقین کے مابین بدسلوکی دیکھنے کے باوجود اعلیٰ حکام یا ضلعی پولیس کو بروقت اطلاع نہ دینے پر متعلقہ ٹریفک وارڈن کو شوکاز نوٹس جاری کر کے فوری طور پر جواب طلب کر لیا ہے۔

وکیل مہران اعجاز انور چوہدری کا تفصیلی مؤقف

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مبینہ طور پر موٹرسائیکل سوار سے بدسلوکی کرنے والے وکیل مہران اعجاز انور چوہدری ایڈووکیٹ کا مؤقف بھی فیس بک پر سامنے آ گیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی فیملی اور بچوں کے ساتھ اسکول کی ضروریات کی اشیاء خریدنے صدر گئے تھے اور ان کی گاڑی حیدر روڈ پر پارک تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب وہ واپس گاڑی میں بیٹھے اور بچے سوار ہو رہے تھے تو پیچھے سے ایک موٹرسائیکل سوار نے انتہائی تیز رفتاری سے آ کر اس دروازے پر زور دار ٹکر ماری جہاں سے بچے اندر جا رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ موٹرسائیکل سوار رکنے کے بجائے موقع سے بھاگ گیا، لیکن کچھ ہی دیر بعد حیدر چوک کے ٹریفک رش میں وہی موٹرسائیکل سوار رانگ سائیڈ سے دوبارہ آیا اور گاڑی کو آگے سے ٹکر مار دی اور اس بار بھی فرار ہونے کی کوشش کی۔

مہران اعجاز انور چوہدری کے مطابق وہاں موجود ٹریفک وارڈن نے یہ سب کچھ دیکھ لیا تھا جس کے بعد وارڈن اور وہ خود موٹرسائیکل سوار کے پیچھے گئے اور اسے روک کر اس کی غفلت پر استفسار کیا، تاہم موٹرسائیکل سوار اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے الٹا بدتمیزی اور اشتعال انگیزی پر اتر آیا۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ اس غفلت سے ان کے بچوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا، تاہم صلہ رحمی کرتے ہوئے انہوں نے بغیر کسی قانونی کارروائی کے اسے جانے دیا۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ واقعے کی یک طرفہ ویڈیو حقائق کے برعکس وائرل کی گئی ہے جس سے ان کے پیشے کی ہتک کی گئی۔

پولیس حکام کا مؤقف اور فریقین کا راضی نامہ

دوسری جانب پولیس حکام نے اس حوالے سے بتایا کہ واقعے میں ٹریفک وارڈن کا کردار صرف اتنا تھا کہ اس نے ڈیوٹی آف کرکے جاتے ہوئے سڑک پر ٹریفک رواں رکھنے کے لیے دونوں فریقین اور گاڑیوں کو سائیڈ پر کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس ناخوشگوار واقعے کے بعد فریقین نے باہمی رضامندی سے معاملے کو وہیں سلجھا لیا اور اپنے اپنے راستے چلے گئے، جبکہ موٹرسائیکل سوار کی جانب سے بھی قانونی کارروائی کے لیے تاحال پولیس سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔

G24 News Online علاقائی، قانونی اور عام عوامی مفاد سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *