تاریخ / مقام: بغداد / ریاض
بیورو رپورٹ — G24 News Online
تفصیل:
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن پر ہونے والے ڈرون حملوں کے بعد عراقی سکیورٹی فورسز نے ایران کی سرحد کے قریب ایک بڑے سکیورٹی آپریشن کے دوران ڈرون لانچرز برآمد کر لیے ہیں۔
میسان میں آپریشن اور ڈرون لانچرز کی برآمد
عراقی سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب نے الزام عائد کیا تھا کہ اس کی اہم تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے والے ڈرون عراقی سرزمین سے لانچ کیے گئے تھے۔ عراقی فورسز نے ایران کی سرحد کے قریب جنوبی صوبے میسان کے دور دراز علاقے الطیب میں چھاپہ مار کر ڈرون لانچ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے آلات اور لانچرز تلاش کر لیے ہیں، جس کی تصدیق دو عراقی سکیورٹی اہلکاروں نے بھی کی ہے۔ اس معاملے پر فوری ردعمل دیتے ہوئے عراقی حکومت نے میسان صوبے میں آپریشنز کے ذمہ دار فوجی کمانڈر کو بھی عہدے سے ہٹا دیا ہے۔
سعودی آئل پائپ لائن کی عارضی بندش
سعودی عرب پر ہونے والے ان حملوں کے بعد مملکت نے اپنی تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل ‘ایسٹ ویسٹ پائپ لائن’ کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔ یہ پائپ لائن مشرقی سعودی عرب کے تیل پیدا کرنے والے علاقوں سے خام تیل کو بحیرہ احمر کے کنارے واقع بندرگاہ ینبع تک پہنچانے کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے، جو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر تیل برآمد کرنے کا متبادل راستہ فراہم کرتی ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق حملے کے نتیجے میں تنصیبات کو مادی نقصان پہنچا ہے۔ سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ وہ عراقی وزیراعظم کی درخواست پر فی الحال جوابی کارروائی سے گریز کر رہا ہے تاکہ بغداد کو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا موقع ملے، تاہم وہ اپنی خودمختاری اور تنصیبات کے تحفظ کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
عراق کی تحقیقات اور خلیجی ممالک کی تشویش
سعودی الزامات کے بعد عراقی حکومت نے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے ایران کے ساتھ ‘شلمچہ’ سرحدی گزرگاہ بھی احتیاطی تدبیر کے طور پر بند کر دی ہے۔ عراق نے عزم ظاہر کیا ہے کہ اس کی سرزمین کو کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ دوسری جانب، خلیج تعاون کونسل (GCC) نے اس حملے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔ عالمی توانائی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر سعودی عرب کے متبادل برآمدی راستے مسلسل حملوں کی زد میں رہے تو اس سے عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
G24 News Online عالمی امور اور مشرق الوسطیٰ کی کشیدہ صورتحال سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




