بیورو رپورٹ — G24 News Online
تفصیل:
بھارت میں ایک دہائی سے زائد پرانے انتہائی خونریز ماؤ نواز حملے کے مقدمے میں خصوصی عدالت نے تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے 10 مجرموں کو سزائے موت کی سزا سنا دی ہے۔ اس حملے میں متعدد نامور سیاسی شخصیات سمیت 29 افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے تھے۔
حملے کا پس منظر اور ہلاکتیں
یہ لرزہ خیز واقعہ 25 مئی 2013 کو بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع بستر کی جھیرم گھاٹی میں پیش آیا تھا، جہاں کانگریس رہنما ‘پریورتن یاترا’ میں شرکت کے بعد واپس جا رہے تھے کہ ماؤ نواز جنگجوؤں نے قومی شاہراہ پر گھات لگا کر ان کے قافلے کو شدید نشانہ بنایا۔ اس حملے کے نتیجے میں مجموعی طور پر 29 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں اس وقت کے ریاستی کانگریس صدر نند کمار پٹیل، ان کے بیٹے دنیش، اسمبلی میں سابق قائد حزب اختلاف مہندر کرما، سابق مرکزی وزیر ودیا چرن شکلا، اور سابق رکن اسمبلی ادے مدلیار کے علاوہ سیکیورٹی اہلکار اور عام شہری بھی شامل تھے۔
عدالتی فیصلہ اور سزاؤں کی تفصیلات
مقدمے کی سماعت مکمل ہونے پر جج نے رواں ماہ کے آغاز میں 10 افراد کو مجرم قرار دیا تھا، جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ عدالت نے تمام 10 مجرموں کو 24 میں سے 7 دفعات کے تحت سزائے موت کا حکم سناتے ہوئے فی کس 800 بھارتی روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق ان سزاؤں پر فوری عملدرآمد نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے ہائی کورٹ کی منظوری لینا لازمی ہے۔ مجرموں کو فی الحال سینٹرل جیل میں رکھا جائے گا اور انہیں فیصلے کے خلاف 30 روز کے اندر ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا حق حاصل ہے۔
تحقیقات اور سیاسی پس منظر
قومی تحقیقاتی ادارے (NIA) کے مطابق، یہ حملہ کالعدم تنظیم کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤسٹ) کے مسلح ارکان نے مقامی دھڑوں کے ساتھ مل کر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا تھا، جو ان کی ’ٹیکٹیکل کاؤنٹر آفینسیو کمپین‘ کا حصہ تھا۔ اس طویل مقدمے کی سماعت کے دوران 101 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے اور بڑی تعداد میں دستاویزات کا جائزہ لیا گیا۔ دوسری جانب، اس ہلاکت خیز واقعے پر سیاسی حلقوں میں بھی اختلافِ رائے پایا جاتا رہا ہے۔ چھتیس گڑھ کے سابق وزیراعلیٰ بھوپیش بگھیل ماضی میں اس سانحے کی تحقیقات پر سوالات اٹھاتے ہوئے مؤقف اپنا چکے ہیں کہ اگر ریاستی تحقیقاتی ٹیم کو آزادانہ موقع ملتا تو اصل سازشی عناصر بے نقاب ہوتے، جبکہ سابق وزیراعلیٰ رمن سنگھ ان بیانات کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش قرار دیتے رہے ہیں۔
G24 News Online بین الاقوامی سیکیورٹی، عدالتی فیصلوں اور اہم عالمی خبروں سے اپنے قارئین کو بروقت باخبر رکھتا رہے گا۔




