تاریخ / مقام: اسلام آباد
کاروباری ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان ایکسٹنڈڈ فنڈ فسیلٹی (EFF) پروگرام کے چوتھے اقتصادی جائزے سے متعلق مذاکرات رواں ہفتے شروع ہونے کا قوی امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ اہم مذاکرات دو ہفتے تک جاری رہیں گے، جن میں دونوں فریقین کے درمیان معاشی اصلاحات اور طے شدہ اہداف کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
مذاکرات کا آغاز اور اہم ایجنڈا
آئی ایم ایف کے مشن کے ساتھ ہونے والے ان مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے جون تک کی معاشی سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔ مذاکرات کا بنیادی مقصد سٹرکچرل بینچ مارکس کے تحت حاصل کردہ اہداف کا جائزہ لینا اور مستقبل کی معاشی پالیسیوں پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔
توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور سرکلر ڈیٹ
مذاکرات کے دوران توانائی کے شعبے میں اصلاحات کو خصوصی اہمیت دی جائے گی۔ اس سلسلے میں بجلی اور گیس کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے سرکلر ڈیٹ (گردشی قرضے) کے کنٹرول اور خاتمے سے متعلق اہداف پر بھی کھل کر بات چیت ہوگی، جو کہ آئی ایم ایف پروگرام کی کامیابی کے لیے انتہائی کلیدی سمجھے جاتے ہیں۔
مالیاتی پیکیج اور قسط کی تفصیلات
آئی ایم ایف کے ساتھ یہ مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں پاکستان کو مجموعی طور پر 1.2 ارب ڈالر تک کی رقم موصول ہونے کا امکان ہے۔ اس پیکیج میں ای ایف ایف کی پانچویں قسط کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر، جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کے لیے پاکستان کو 20 کروڑ ڈالر ملنے کی توقع ہے۔
آئی ایم ایف پروگرام کا پس منظر
واضح رہے کہ پاکستان نے 37 ماہ کا یہ توسیعی فنڈ پروگرام ستمبر 2024 میں حاصل کیا تھا۔ اس سلسلے میں پروگرام کی پہلی ایک ارب ڈالر کی قسط ستمبر 2024 میں ملی تھی، دوسری قسط مئی 2025 میں موصول ہوئی تھی، جبکہ تیسری قسط 11 دسمبر 2025 کو پاکستان کو منتقل کی گئی تھی۔ حکومت کو امید ہے کہ چوتھے جائزے کی کامیابی سے ملک میں معاشی استحکام کا عمل مزید تیز ہوگا۔
G24 News Online معاشی پالیسیوں، ملکی تجارت اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ ہونے والے معاہدوں سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




