تحریر و تحقیق ـــ۔ ۔ صالحہ کامران
لاہور: پنجاب میں وزیراعظم کی خصوصی فیول ریلیف اسکیم پر عملدرآمد جاری ہے، جس کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ، چنگ چی اور چھوٹی گاڑیوں کے صارفین کو پٹرول کی خریداری پر مالی ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔
اس اسکیم کا مقصد بڑھتی ہوئی پٹرول قیمتوں کے اثرات کو کم کرنا اور عام شہریوں کو براہِ راست سہولت فراہم کرنا ہے۔ اہل موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگ چی صارفین کو ماہانہ 20 لیٹر تک پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دیا جا رہا ہے، جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے ماہانہ 30 لیٹر تک پٹرول پر یہی رعایت مقرر کی گئی ہے۔
حکومت نے اسکیم کے طریقہ کار میں بھی تبدیلیاں کی ہیں۔ موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگ چی صارفین کو ماہانہ چار فیول ٹوکن حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ رجسٹریشن اور ٹوکن کے لیے ایس ایم ایس چارجز ختم کر دیے گئے ہیں۔
تازہ پیش رفت کے مطابق پنجاب میں 24 لاکھ افراد رجسٹریشن کرا چکے ہیں، جبکہ 22 لاکھ سے زائد افراد ٹوکن حاصل کرکے فیول سبسڈی سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ صوبے بھر میں ہزاروں پٹرول پمپس پر اسکیم نافذ کی جا رہی ہے اور شہریوں کی رہنمائی کے لیے ہیلپ ڈیسک بھی قائم کیے گئے ہیں۔
فیول ریلیف حاصل کرنے کے لیے رجسٹرڈ شہری مخصوص طریقہ کار کے تحت ٹوکن حاصل کرکے پٹرول پمپ پر اپنا ٹوکن دکھا سکتے ہیں۔ حکومت نے نظام کو ڈیجیٹل رکھا ہے تاکہ سبسڈی مستحق افراد تک پہنچائی جا سکے۔اس اسکیم میں پرانی موٹر سائیکلوں اور رکشوں کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے بعد بڑی تعداد میں ایسے افراد بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے اہل ہوگئے ہیں جو پہلے مقررہ معیار پر پورا نہیں اترتے تھے۔
پنجاب میں فیول سبسڈی پروگرام کے تحت لاکھوں شہریوں کا فائدہ اٹھانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسکیم پر بڑے پیمانے پر عملدرآمد جاری ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ رجسٹریشن اور ٹوکن کے لیے صرف سرکاری طریقہ کار استعمال کریں اور اپنی ذاتی معلومات غیر متعلقہ افراد کے ساتھ شیئر کرنے سے گریز کریں۔




