تحریر و تحقیق۔۔ صالحہ کامران
پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے نئے نصاب اور جدید تعلیمی ماڈل کی منظوری دے دی گئی ہے۔ نئے منصوبے کے تحت طلبہ پر کتابوں کا بوجھ کم کرنے، جدید ٹیکنالوجی کو تعلیم کا حصہ بنانے اور رٹّے کے بجائے سمجھ کر سیکھنے کے رجحان کو فروغ دینے پر توجہ دی جائے گی۔
اس نئے تعلیمی ماڈل کے تحت نصابی کتابوں کا بوجھ 25 فیصد کم کیا جائے گا، جبکہ طلبہ کو ڈیجیٹل تعلیم اور مصنوعی ذہانت (AI) سے روشناس کرانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔
نئے نصاب میں طلبہ کے لیے نصابی کتابوں کا حجم 25 فیصد کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بچوں کو غیر ضروری تعلیمی بوجھ سے نجات دلانا اور انہیں مضامین کو بہتر انداز میں سمجھنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
نئے نصاب میں انگریزی، ریاضی، اردو، سماجی علوم اور ابتدائی بچپن کی تعلیم کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے بچوں کی بنیادی تعلیمی صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور یاد کرنے کے بجائے سمجھنے کی عادت پیدا کرنے پر زور دیا جائے گا۔
نئے تعلیمی ماڈل کی ایک اہم خصوصیت نصابی کتابوں میں QR کوڈز کی شمولیت ہے۔ طلبہ کتاب میں موجود QR کوڈ اسکین کرکے متعلقہ موضوع کے ویڈیو اسباق دیکھ سکیں گے۔اس سہولت سے بچوں کو مشکل مضامین سمجھنے میں مدد ملے گی اور وہ کلاس روم کے علاوہ گھر پر بھی ڈیجیٹل مواد سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں پہلی سے بارہویں جماعت تک مصنوعی ذہانت (AI) کی تعلیم متعارف کرانے کے لیے نصاب تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔اس کے ساتھ اسکولوں میں جدید لیبارٹریز قائم کرنے اور طلبہ کو ٹیکنالوجی سے متعلق عملی مہارتیں سکھانے پر بھی توجہ دی جائے گی، تاکہ بچے مستقبل کے تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتیں بہتر بنا سکیں۔
نئے تعلیمی ماڈل میں طلبہ کی ذہنی صحت کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ اساتذہ کے لیے ذہنی صحت سے متعلق تربیت کا انتظام کیا جائے گا، جبکہ طلبہ کو آن لائن کونسلنگ کی سہولت فراہم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
اس کے علاوہ ہر ضلع میں ماہرینِ نفسیات کی خدمات حاصل کرنے کے منصوبے پر بھی غور کیا گیا ہے، تاکہ بچوں کو تعلیمی اور ذہنی مسائل سے نمٹنے میں مدد مل سکے۔
تعلیمی اصلاحات کے تحت اسکولوں میں جسمانی سزا کے خاتمے کے لیے قانون سازی پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔بچوں میں نظم و ضبط پیدا کرنے کے لیے جسمانی سزا کے بجائے مثبت تربیتی طریقے اپنانے اور کلاس رومز میں ڈسپلن کارنرز قائم کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
نئے نصاب کے مؤثر نفاذ کے لیے اساتذہ کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ ہفتے کے روز اساتذہ کے تربیتی سیشنز منعقد کرنے کا منصوبہ ہے، جبکہ نئی نصابی کتابوں کے مصنفین بھی اساتذہ کی رہنمائی کریں گے۔
اس اقدام کا مقصد اساتذہ کو نئے تدریسی طریقوں سے روشناس کرانا اور کلاس روم میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔
نئے نصاب کے تحت مونٹیسوری سے پانچویں جماعت تک کی نئی کتابیں اپریل 2027 میں شروع ہونے والے تعلیمی سیشن کے لیے دستیاب کرانے کا منصوبہ ہے۔
نصاب کی تیاری اور نظرثانی کے بعد کتابوں کی طباعت کا عمل مکمل کیا جائے گا، تاکہ نئے تعلیمی سال میں طلبہ کو نئی کتابیں فراہم کی جا سکیں۔
پنجاب حکومت کا نیا تعلیمی ماڈل نصاب میں کمی، ڈیجیٹل تعلیم، مصنوعی ذہانت، اساتذہ کی تربیت اور طلبہ کی ذہنی صحت جیسے اہم پہلوؤں پر مشتمل ہے۔
اگر ان اقدامات پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا جاتا ہے تو سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو جدید تعلیمی سہولیات اور سیکھنے کے نئے مواقع میسر آ سکتے ہیں۔ نئے نصاب کی کامیابی کا انحصار اساتذہ کی تربیت، تعلیمی وسائل کی دستیابی اور منصوبے پر مؤثر عمل درآمد پر ہوگا۔




