تاریخ / مقام: تہران / واشنگٹن
بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
خطے کے انتہائی حساس ترین آبی گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ میں ایران اور امریکہ کے درمیان ایک نیا محاذ کھل گیا ہے۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاسداران انقلاب نے ایک امریکی زیرِ آب ڈرون کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی فوج نے اس دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد قرار دیا ہے۔
پاسداران انقلاب کا ڈرون قبضے میں لینے کا دعویٰ
ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی بحریہ نے ایک انٹیلی جنس آپریشن کے دوران امریکی بغیر پائلٹ کے چلنے والی زیرِ آب گاڑی (Remus 600) کو کامیابی سے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس ڈرون سے حاصل ہونے والے حساس ڈیٹا کا ایرانی ماہرین کی جانب سے باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ اس کے مقاصد کا تعین کیا جا سکے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کی تردید
برعکس اس کے، امریکی فوج کے مرکزی کمانڈ (سینٹ کام) نے تہران کے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔ سینٹ کام کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ امریکی بحریہ اپنے تمام آپریشنل ڈرون اثاثوں اور سسٹمز پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے اور کوئی بھی اثاثہ ایرانی پاسداران انقلاب کے قبضے میں نہیں گیا۔ امریکی حکام نے اس ایرانی دعوے کو بوکھلاہٹ اور پروپیگنڈے پر مبنی قرار دیا ہے۔
کشیدہ صورتحال اور غیر یقینی فضا
اس طرح آبنائے ہرمز میں مبینہ زیرِ آب ڈرون کے اس واقعے پر تہران اور واشنگٹن کے مؤقف میں واضح تضاد سامنے آیا ہے۔ تاہم، اس واقعے سے متعلق زمینی حقائق اور آزادانہ ذرائع سے اس کی تصدیق تاحال سامنے نہیں آ سکی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے واقعات پہلے سے کشیدہ پاک و ہند یا امریکہ و ایران تعلقات میں مزید تناؤ کا باعث بن سکتے ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا بھر میں توانائی اور تیل کی ترسیل کا سب سے اہم اور نازک ترین بحری راستہ ہے۔
G24 News Online بین الاقوامی سفارت کاری، دفاعی امور اور عالمی منڈیوں سے جڑی تمام مصدقہ خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




