تحریر و تحقیق۔۔ صالحہ کامران
پاکستان میں قومی شناختی کارڈ (CNIC) ہر شہری کی بنیادی ضرورت اور شناخت کا ذریعہ ہے۔ تعلیم، علاج، بینکنگ سروسز، اور حکومتی و فلاحی منصوبوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے شناختی کارڈ ہونا انتہائی ضروری ہے۔ تاہم، اکثر خواتین کو برتھ سرٹیفکیٹ نہ ہونے کے باعث اپنا شناختی کارڈ بنوانے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
خواتین کی اس بڑی مشکل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، نادرا (NADRA) نے شادی شدہ اور غیر شادی شدہ دونوں طبقوں کے لیے خصوصی اور آسان شرائط کے تحت برتھ سرٹیفکیٹ کے بغیر شناختی کارڈ بنانے کا اعلان کیا ہے۔
شادی شدہ خواتین کے لیے شرائط و طریقہ کار
اگر کسی 18 سال سے زائد عمر کی شادی شدہ خاتون کے پاس برتھ سرٹیفکیٹ نہیں ہے، تو وہ مندرجہ ذیل طریقہ کار کے ذریعے درخواست دے سکتی ہیں:
- کمپیوٹرائزڈ نکاح نامہ: درخواست دہندہ خاتون کا کمپیوٹرائزڈ نکاح نامہ موجود ہونا چاہیے۔
- بائیو میٹرک تصدیق: درخواست دیتے وقت خاتون کے شوہر یا والدین میں سے کسی ایک کی بائیو میٹرک تصدیق ہونا لازم ہے۔
غیر شادی شدہ خواتین کے لیے شرائط
18 سال سے زائد عمر کی غیر شادی شدہ خواتین کے لیے جن کا برتھ سرٹیفکیٹ نہیں بنا ہوا، نادرا نے حسبِ ذیل شرائط طے کی ہیں:
- درخواست دہندہ خاتون کے والدین، بہن یا بھائی میں سے کسی ایک کا نادرا شناختی کارڈ ہونا ضروری ہے۔
اس سہولت کے اہم فائدے
- دستاویزی مشکلات میں کمی: برتھ سرٹیفکیٹ نہ ہونے کی وجہ سے نادرا دفتر کے چکر کاٹنے سے نجات ملے گی۔
- خواتین بااختیار: ملک کی وہ خواتین جن کے پاس شناخت کا کوئی ذریعہ نہیں تھا، اب آسانی سے قومی دھارے میں شامل ہو سکیں گی۔
- حکومتی اسکیموں تک رسائی: شناختی کارڈ بننے کے بعد خواتین مختلف فلاحی اسکیموں (جیسے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام) اور بینک اکاؤنٹ کی سہولیات حاصل کر سکیں گی۔
اختتامی بات
نادرا کا یہ اقدام بالخصوص دیہی اور دور دراز علاقوں میں رہنے والی خواتین کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔ اگر آپ یا آپ کے ارد گرد کوئی ایسی خاتون ہیں جن کا شناختی کارڈ اسی وجہ سے نہیں بن سکا تھا، تو وہ نادرا کے قریبی سینٹر جا کر اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔




