تاریخ / مقام: تل ابیب / دبئی / مسقط
بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
متحدہ عرب امارات سے اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں کاک پٹ کے اندر پیش آنے والے مبینہ حملے اور ہائی جیکنگ کی کوشش کے واقعے کے بعد حملہ آور معاون پائلٹ کے حوالے سے حیرت انگیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ اس سنسنی خیز واقعے نے بین الاقوامی سطح پر ہلچل مچا دی ہے۔
فلائی دبئی کی پرواز کا واقعہ اور پائلٹ کی جوابی کارروائی
’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق فلائی دبئی کی پرواز (ایف زیڈ 1073) دبئی سے تل ابیب جا رہی تھی کہ دورانِ پرواز عمانی نژاد معاون پائلٹ نے کاک پٹ میں موجود مرکزی پائلٹ پر اچانک حملہ کر کے طیارے کو اپنے قابو میں کرنے کی کوشش کی۔ بھارتی نژاد مرکزی پائلٹ نے انتہائی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھرپور مزاحمت کی اور شدید زخمی ہونے کے باوجود کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہو گیا، جس کے بعد عملے اور مسافروں نے اندر داخل ہو کر حملہ آور کو قابو میں کر لیا۔ اس ہنگامی صورتحال کے پیش نظر پرواز کو ہنگامی طور پر تبوک ایئرپورٹ پر اتارا گیا اور بعد ازاں حفاظتی اقدامات کے ساتھ تل ابیب روانہ کیا گیا۔ بھارتی پائلٹ کو عالمی سطح پر ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔
ساتھی پائلٹ کے انکشافات؛ ملزم شدت پسندانہ رجحانات کا حامل تھا
حملہ آور معاون پائلٹ کے ایک سابق ساتھی پائلٹ نے اسرائیلی میڈیا چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم کا تعلق عمان سے تھا اور وہ محض آٹھ ماہ قبل ہی بطور معاون پائلٹ فلائی دبئی میں شامل ہوا تھا۔ ساتھی پائلٹ نے انکشاف کیا کہ وہ شخص بادی النظر میں بنیاد پرست اور شدت پسند لگتا تھا جو دن بھر غیر معمولی طور پر زیادہ عبادت کرتا، خواتین سے ہاتھ ملانے سے گریز کرتا اور بہت کم گفتگو کرتا تھا۔
اسرائیلی وزیراعظم کا بیان اور تفتیش کا دائرہ
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ حملہ آور معاون پائلٹ تھا جس کے پاس عمانی شہریت کے ساتھ دہری شہریت بھی موجود ہے اور وہ سخت گیر اسلامی نظریات کا حامل تھا۔ ایک سوال کے جواب میں نیتن یاہو نے واضح کیا کہ تاحال عمانی پائلٹ کے ایران کے ساتھ براہِ راست تعلقات کے شواہد تو نہیں ملے، تاہم سیکیورٹی ادارے اس پہلو پر بھی گہرائی سے تفتیش کر رہے ہیں کہ آیا وہ کسی بیرونی نیٹ ورک سے جڑا ہوا تھا یا نہیں۔ حملہ آور کو حراست میں لے کر اس کی شناخت صیغہ راز میں رکھی گئی ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
G24 News Online بین الاقوامی سیکیورٹی، ہوا بازی اور دنیا بھر کی تمام اہم خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




