تاریخ / مقام: ساہیوال
کرائم ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
ساہیوال میں انسانیت کو ہلا دینے والا ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں غلہ منڈی پولیس نے تین ماہ اور تیرہ روز کی طویل مدت کے بعد پانچ سالہ معصوم ایان کے قتل کے مقدمے کا ڈراپ سین کرتے ہوئے سفاک خالہ اور اس کے آشنا کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس لرزہ خیز واردات نے علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔
واقع پس منظر اور لاش کی برآمدگی
پولیس ریکارڈ اور فراہم کردہ معلومات کے مطابق پانچ سالہ ایان کو رواں سال 17 جون کو بے دردی سے قتل کیا گیا تھا، جبکہ اس کی لاش تین روز بعد 20 جون کو نائن ایل نہر، ڈیرہ رحیم کے علاقے سے برآمد ہوئی تھی۔ ابتدائی طور پر واقعے کے محرکات واضح نہیں تھے، تاہم پولیس نے گہرائی سے تفتیش کا آغاز کیا۔
ایف آئی آر کے ہولناک انکشافات اور تشدد کی داستان
مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق، واقعے سے پانچ ماہ قبل بچے کی خالہ بشریٰ اسے اپنے ساتھ ساہیوال لے کر آئی تھی۔ تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمہ بشریٰ اور اس کے آشنا نے معصوم ایان پر بہیمانہ تشدد کیا۔ ملزمان نے بچے کے سر پر اسٹیل کا چمچہ مارا اور اسے بے دردی سے زمین پر پٹختے رہے جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہو گیا۔ بچے کی جان لینے کے بعد سفاک ملزمان نے اس کی لاش کو ساہیوال میں ‘ویو ہوٹل’ کے قریب واقع نائین ایل نہر میں پھینک دیا تھا۔
پولیس کی کارروائی اور ملزمان کی گرفتاری
غلہ منڈی پولیس نے تمام شواہد اور قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے قتل کا مقدمہ درج کیا اور فوری کارروائی کرتے ہوئے پانچ سالہ ایان کے قتل میں براہِ راست ملوث اس کی خالہ بشریٰ اور اس کے آشنا کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
G24 News Online قانون کی حکمرانی، کرائم رپورٹس اور تمام اہم قومی خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




