تحریر و تحقیق۔۔ صالحہ کامران
سر درد اور خصوصاً مائیگرین (Migraine) ایک ایسا مرض ہے جس سے پاکستان میں لاکھوں افراد متاثر ہوتے ہیں، لیکن آگاہی کی کمی اور صحیح ڈیٹا میسر نہ ہونے کی وجہ سے اکثر مریضوں کا مؤثر علاج نہیں ہو پاتا۔مائیگرین صرف عام سر درد نہیں بلکہ ایک اعصابی کیفیت ہے جس میں شدید سر درد کے ساتھ متلی، روشنی یا آواز سے حساسیت اور بعض افراد میں دیگر علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔ اس مرض کی شدت اور علامات ہر مریض میں مختلف ہو سکتی ہیں۔ اس مسئلے کا مستقل اور سائنسی حل نکالنے کے لیے سروسز ہسپتال / سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (SIMS) لاہور میں “مائیگرین رجسٹری” (Migraine Registry) کی بنیاد رکھی گئی اور ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
تقریب کی اہم خصوصیات اور مقاصد
تقریب میں نامور نیورولوجسٹس، طبی ماہرین، پروفیسر ڈاکٹرز اور میڈیکل سٹوڈنٹس نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس تقریب کا بنیادی مقصد مریضوں کی بہترین دیکھ بھال کے لیے ایک قومی سطح کا ڈیٹا بیس (Data Bank) تشکیل دینا ہے۔
1۔ مریضوں کے ڈیٹا کا اندراج:
اس رجسٹری کے تحت ہسپتال آنے والے تمام مائیگرین کے مریضوں کی تفصیلات، علامات، ادویات کے اثرات اور ان کی طبی ہسٹری کو ایک منظم ڈیجیٹل سسٹم میں محفوظ کیا جائے گا۔
بہتر اور جدید علاج:
رجسٹری کی مدد سے ماہرین کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ ہمارے خطے (پنجاب/پاکستان) کے مریضوں پر کون سی ادویات اور تھراپی زیادہ مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔
تحقیق اور سائنسی پیش رفت (Research Development):
یہ ڈیٹا بیس مستقبل میں طبی تحقیق کرنے والے ڈاکٹروں کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا، جس سے نیورولوجی کی دنیا میں پاکستان کا نام بھی عالمی معیار کے مطابق سامنے آئے گا۔
عوامی آگاہی (Public Awareness):
تقریب کے دوران ماہرینِ اعصاب نے اس بات پر زور دیا کہ مائیگرین محض ایک عام سر درد نہیں بلکہ ایک نیورولوجیکل بیماری ہے جس کے علاج کے لیے بروقت تشخیص اور پرہیز انتہائی ضروری ہے۔
طبی ماہرین کے اہم خطابات
سروسز ہسپتال کے شعبہ نیورولوجی اور SIMS انتظامیہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ اقدام مریضوں کی تکالیف کو کم کرنے اور انہیں معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ سینئر ڈاکٹروں نے بتایا کہ:
“مائیگرین رجسٹری کا قیام محض معلومات جمع کرنا نہیں، بلکہ یہ پاکستان میں مائیگرین کے مریضوں کے لیے جدید علاج اور بہتر دیکھ بھال کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔”
عوام اور مریضوں کے لیے فائدے
انفرادی علاج Plan:
مریض کی ہسٹری محفوظ ہونے کی وجہ سے ہر بار نئے سرے سے ٹیسٹ یا ادویات بدلنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
صحت کا بہتر لائحہ عمل:
حکومت اور ہسپتال انتظامیہ کو یہ اندازہ لگانے میں مدد ملے گی کہ اس بیماری پر قابو پانے کے لیے کتنے وسائل کی ضرورت ہے۔
خود العلاجی (Self-Medication) کا خاتمہ:
ماہرین کی نگرانی میں صحیح ادویات کا انتخاب ممکن ہو سکے گا۔
سروسز ہسپتال لاہور کا یہ اقدام پنجاب بھر کے ہسپتالوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے، جس سے آنے والے دنوں میں ہزاروں مریضوں کو آدھے سر کے درد سے مستقل افاقہ حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔




