ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

بلاگ

ڈینگی سروے اور عوامی آگاہی، لاروا ملنے پر قانونی کاروائی، ایف آئی آر کا امکان

ڈینگی سروے اور عوامی آگاہی، لاروا ملنے پر قانونی کاروائی، ایف آئی آر کا امکان
Spread the love

تحریر و تحقیق۔۔ صالحہ کامران

لاہور: ڈینگی کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر صوبے بھر میں انسدادِ ڈینگی سرگرمیوں اور گھروں و دیگر مقامات کی سرویلنس کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔ ڈینگی ٹیمیں گھروں، چھتوں، زیرِ تعمیر عمارتوں، کباڑ خانوں، ٹائر شاپس اور دیگر ممکنہ افزائش گاہوں کا معائنہ کر رہی ہیں۔

سروے کے دوران اگر کسی جگہ ڈینگی مچھر کا لاروا یا اس کی افزائش کے لیے سازگار ماحول پایا جائے تو متعلقہ افراد کے خلاف قواعد و ضوابط کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ بعض کیسز میں نوٹس، چالان اور جرمانے کے ساتھ ایف آئی آر بھی درج کی جا رہی ہے۔

حکام کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ گھروں، چھتوں، گملوں، کولروں، ٹائروں اور دیگر جگہوں پر پانی جمع نہ ہونے دیں، کیونکہ کھڑا پانی ڈینگی مچھر کی افزائش کا سبب بن سکتا ہے۔

حالیہ انسدادِ ڈینگی کارروائیوں میں بڑی تعداد میں گھروں اور بیرونی مقامات کی نگرانی کی گئی جبکہ لاروا کی نشاندہی ہونے پر اسے تلف کرنے کے ساتھ خلاف ورزیوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق ڈینگی سے بچاؤ صرف سرکاری ٹیموں کی ذمہ داری نہیں بلکہ شہریوں کا تعاون بھی انتہائی ضروری ہے۔ گھروں اور اردگرد کے ماحول کو صاف رکھنا، پانی جمع نہ ہونے دینا اور ڈینگی سروے ٹیموں کے ساتھ تعاون کرنا بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

پاکستان بھر بالخصوص پنجاب اور خیبر پختونخوا میں مون سون کے بعد ڈینگی کے کیسز اور صورتحال سے متعلق تازہ ترین تفصیلات درج ذیل ہیں:

  • ​پنجاب میں کیسز کی پیشرفت: محکمۂ صحت کے مطابق ستمبر کے مہینے میں پنجاب بھر سے ڈینگی کے 57 سے زائد تائید شدہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ اثر راولپنڈی میں دیکھا گیا ہے جہاں کیسز کی تعداد 35 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ لاہور میں 14 کیسز سامنے آئے ہیں۔ چکوال، ملتان، اور رحیم یار خان سے بھی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
  • ​حساس ترین مرحلہ (Peak Season): محکمۂ صحت نے 15 نومبر تک کے وقت کو ڈینگی کا سب سے حساس اور خطرناک مرحلہ قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بارشیں ختم ہونے اور موسمِ سرما کی آمد پر درجہ حرارت گرنے سے لاروا کی افزائش خود بخود رک جائے گی۔
  • ​اینٹی ڈینگی کارروائیاں اور ہیلپ لائن: راولپنڈی اور اسلام آباد کے جڑواں شہروں سمیت صوبے بھر میں اب تک 2 لاکھ سے زائد مقامات پر ڈینگی لاروا کی نشاندہی کر کے تلفی کا کام کیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے عوام کی رہنمائی اور شکایات کے لیے ڈینگی ہیلپ لائن 1033 بھی فعال کی گئی ہے۔
  • ​خیبر پختونخوا کی صورتحال: خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں بھی ڈینگی کے خطرات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں محکمہ صحت کی ٹیمیں مختلف ہاٹ سپاٹس پر فوگنگ اور سپرے میں مصروف ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *