تاریخ / مقام: تہران
بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور سفارتی کوششوں کے تعطل کے درمیان ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع کا کوئی بھی فوجی حل موجود نہیں ہے، اور اس مسئلے کو صرف اور صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔
تہران میں سفیروں سے خطاب اور سخت انتباہ
تہران میں غیر ملکی سفیروں کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران جنگ کے راستے کے بجائے سفارت کاری کے ذریعے مسائل کا پرامن حل چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی پابندیاں عائد کرنا یا دباؤ بڑھانا اس تنازع کے حل کا راستہ نہیں ہو سکتا۔ تاہم، انہوں نے کڑے الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر مخالفین یا امریکہ نے دوبارہ کسی فوجی محاذ آرائی کا راستہ اختیار کیا تو ایران کا ردعمل پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہوگا، اور ملک اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے اپنی بھرپور طاقت استعمال کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے اپنی شرائط دنیا کے سامنے واضح کر دی ہیں اور اب حتمی فیصلہ امریکہ کو کرنا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش اور ثالثی کی کوششیں
یہ اہم بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قطر اور پاکستان جیسے بعض دوست ممالک کی ثالثی کے ذریعے دونوں فریقوں کے درمیان بالواسطہ پیغامات اور رابطے جاری ہیں۔ اس دوران ایران نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے اپنی مخصوص شرائط بھی رکھی ہیں۔ ایرانی پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی حالیہ دنوں میں موقف اپنایا تھا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک تہران کی جانب سے پیش کردہ سات بنیادی شرائط پوری نہیں کی جاتیں۔ دوسری جانب امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ کسی بھی ممکنہ سمجھوتڑے یا معاہدے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے معاملات کو بھی اس میں حل کیا جائے۔ جنگ بندی، پابندیوں میں نرمی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور جوہری پروگرام جیسے پیچیدہ معاملات اس وقت دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
G24 News Online بین الاقوامی سفارت کاری، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور تمام اہم عالمی خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




