تحریر و تحقیق ۔۔ صالحہ کامران
فاطمہ میموریل ہسپتال (FMH) لاہور نہ صرف معیاری علاج معالجے بلکہ طبی تعلیم اور تحقیق کے میدان میں بھی ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔ حال ہی میں فاطمہ میموریل ہسپتال میں PHYSCOON کانفرنس کا باوقار انعقاد کیا گیا، جس میں وزیر صحت و آبادی خواجہ عمران نذیر نے بطور مہمان خصوصی اور ملک بھر سے نامور طبی ماہرین، محققین، فزیوتھراپسٹس اور میڈیکل کے طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد جدید طبی سہولیات، فزیوتھراپی اور بحالیِ صحت (Rehabilitation) کے شعبے میں ہونے والی تازہ ترین تحقیق اور پیشرفت پر سیر حاصل گفتگو کرنا تھا۔
کانفرنس کے اہم نکات اور محاورے
کانفرنس کے دوران مختلف سیشنز اور ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا، جن میں درج ذیل اہم موضوعات کو زیرِ بحث لایا گیا:
- جدید فزیوتھراپی اور ری ہیبلیٹیشن: ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ حادثات، فالج اور ہڈیوں و جوڑوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کی جلد اور مکمل بحالی کے لیے جدید ترین فزیوتھراپی تکنیکوں کا استعمال کتنا ضروری ہے۔
- تحقیق اور سائنس پر مبنی علاج (Evidence-Based Practice): کانفرنس میں پیش کی جانے والی تحقیقی مقالات (Research Papers) میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ طبی فیصلے اور علاج روایتی طریقوں کے بجائے جدید سائنسی تحقیق پر مبنی ہونے چاہئیں۔
- جدید طبی سہولیات اور ٹیکنالوجی کا استعمال: فاطمہ میموریل ہسپتال میں دستیاب جدید ترین میڈیکل اور بائیو میڈیکل آلات کی نمائش کی گئی اور بتایا گیا کہ کس طرح جدید ٹیکنالوجی علاج کے نتائج کو بہتر بنا رہی ہے۔
- بین الشُعبہ جاتی تعاون (Interdisciplinary Approach): کانفرنس میں ڈاکٹروں، فزیوتھراپسٹس اور سرجنز کے باہمی تعاون پر زور دیا گیا تاکہ مریض کو ایک ہی چھت تلے مکمل اور جامع علاج میسر آ سکے۔
طبی سہولیات کو درپیش چیلنجز اور حل
کانفرنس کے پینل ڈسکشن میں پاکستانی عوام کو درپیش صحتی مسائل اور ہسپتالوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ماہرین نے درج ذیل تجاویز پیش کیں:
عوامی آScript/آگاہی:
عام لووگوں میں فزیوتھراپی اور روک تھام کے علاج (Preventive Care) کے بارے میں شعور بیدار کیا جائے۔
سستی اور معیاری سہولیات:
ہر طبقاتی طبقے تک معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
ینگ ڈاکٹرز کی تربیت:
جونیئر ڈاکٹرز اور طلبہ کے لیے مسلسل میڈیکل ایجوکیشن (CME) اور عملی ورکشاپس کو لازمی قرار دیا جائے۔
اس کے علاوہ طبی شعبے میں ترقی کے لیے خصوصی گرانٹس دی جائیں۔
فاطمہ میموریل ہسپتال کا کردار
فاطمہ میموریل ہسپتال نے اس کانفرنس کے انعقاد سے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ محض ایک ہسپتال نہیں بلکہ تحقیق اور طبی تربیت کا ایک عظیم مرکز ہے۔ ہسپتال کی انتظامیہ نے عزم ظاہر کیا کہ وہ مستقبل میں بھی اس طرح کی علمی اور تحقیقی کانفرنسز کا انعقاد جاری رکھیں گے تاکہ ملک میں صحت کے شعبے کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالا جا سکے۔
نتیجہ:
PHYSCOON کانفرنس نہ صرف میڈیکل کمیونٹی کے لیے معلومات کے تبادلے کا ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوئی بلکہ اس نے پاکستان میں طبی سہولیات اور تحقیق کے نئے افق بھی روشن کیے۔ اس طرح کی کاوشیں بالآخر عام مریضوں کے بہتر علاج اور صحتمند معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔




