تاریخ / مقام: اسلام آباد
قومی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک تفصیلی بیان میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے پیش کی جانے والی اس دلیل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ انہیں “دہشتگردی کے خلاف پالیسی بنانے نہیں دی گئی۔” اس دعوے کے جواب میں وزیر دفاع نے پی ٹی آئی کی قیادت سے 8 بنیادی اور سخت سوالات پوچھے ہیں۔
کے پی میں 13 سالہ اقتدار اور قومی سلامتی کے امور
خواجہ آصف نے اپنے سوالات میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ گزشتہ 13 سال سے خیبر پختونخوا میں مسلسل پی ٹی آئی کی حکومت رہی ہے اور وہ وفاق میں بھی اقتدار کے ایوانوں میں رہ چکے ہیں، لہذا انہیں دہشتگردی کے خلاف پالیسی بنانے یا نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرنے سے کس نے روکا؟ انہوں نے سوال کیا کہ دہشتگردوں کی مذمت کرنے، پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے اور افغان سرزمین سے ہونے والی دراندازی پر آواز اٹھانے کے لیے کسی مخصوص پالیسی کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے کوہاٹ میں ہونے والے حالیہ حملوں اور سرحدی خلاف ورزیوں پر صوبائی حکومت کی خاموشی پر بھی سوال اٹھایا۔
غیر قانونی معیشت کا خاتمہ اور سکیورٹی فورسز سے اظہارِ یکجہتی
وزیر دفاع نے صوبے میں بھتہ خوری، اسمگلنگ اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں جیسی غیر قانونی معیشت کو ختم کرنے کے لیے پی ٹی آئی کی حکومت کی کارکردگی کا حساب مانگتے ہوئے پوچھا کہ گزشتہ ایک دہائی میں اس حوالے سے کیا عملی اقدامات کیے گئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے دہشتگردی کے خلاف برسرپیکار سکیورٹی فورسز کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور یتیم بچوں کے سروں پر دستِ شفقت پھیرنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر بھی روشنی ڈالنے کا کہا۔
ریاستی بیانیے کو کنفیوز کرنے اور کرپشن کے الزامات
آخر میں خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی ریاست کے بیانیے کو مختلف ہتھکنڈوں سے کنفیوز کرتی ہے اور خوارج کی کھلے الفاظ میں مذمت کرنے سے گریزاں رہتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 13 سالہ حکمرانی میں صوبے کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا، جبکہ خود پی ٹی آئی کے اراکین اور خواتین رہنماؤں کی جانب سے پارٹی فنڈز کی خوردبرد اور کروڑوں روپے لوٹنے کے سنگین نوعیت کے الزامات ایک دوسرے پر لگائے جاتے ہیں۔
G24 News Online قومی سلامتی، سیاسی منظرنامے اور تمام اہم خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




