تحریر و تحقیق ۔۔ صالحہ کامران
لاہور: پنجاب یونیورسٹی میں سائبر کرائم اور آن لائن سکیورٹی کے حوالے سے آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں طلبہ کو بڑھتے ہوئے سائبر جرائم، آن لائن فراڈ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے محفوظ استعمال کے بارے میں آگاہی فراہم کی گئی۔
سیمینار میں طلبہ کو بتایا گیا کہ موجودہ دور میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا استعمال زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے، تاہم آن لائن سرگرمیوں کے دوران معمولی سی غفلت بھی مالی نقصان، اکاؤنٹ ہیک ہونے یا ذاتی معلومات کے غلط استعمال کا سبب بن سکتی ہے۔
سائبر جرائم سے بچاؤ پر خصوصی توجہ
شرکاء کو مختلف اقسام کے سائبر جرائم کے بارے میں بتایا گیا، جن میں جعلی لنکس، فشنگ، آن لائن فراڈ، جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس، شناختی معلومات کا غلط استعمال اور اکاؤنٹس ہیک کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔
ماہرین نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ کسی بھی غیر معروف لنک پر کلک کرنے سے گریز کریں اور اپنا پاس ورڈ، OTP، بینکنگ معلومات یا دیگر حساس معلومات کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔
طلبہ کے لیے اہم حفاظتی ہدایات
سیمینار میں ڈیجیٹل سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے مضبوط اور منفرد پاس ورڈ استعمال کرنے، Two-Factor Authentication فعال رکھنے اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی پرائیویسی سیٹنگز کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔
طلبہ کو یہ بھی مشورہ دیا گیا کہ اگر انہیں کسی آن لائن فراڈ، بلیک میلنگ، ہراسانی یا مشکوک سرگرمی کا سامنا ہو تو اسے نظر انداز کرنے کے بجائے متعلقہ اداروں کو رپورٹ کریں۔
ماہرین نے بتایا کہ اگر کوئی طالب علم یا طالبہ آن لائن بلیک میلنگ کا شکار ہوتی ہے تو گھبرانے کے بجائے فوری طور پر اپنے والدین، یونیورسٹی انتظامیہ یا ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ (FIA Cybercrime Wing) سے رابطہ کریں۔
ایف آئی اے کی ہیلپ لائن 1991 پر شکایت درج کروائی جا سکتی ہے، جہاں متاثرہ فرد کی شناخت اور معلومات کو مکمل طور پر راز میں رکھا جاتا ہے۔
ڈیجیٹل دور میں آگاہی کیوں ضروری ہے؟
سائبر جرائم کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے اور نوجوان بڑی تعداد میں سوشل میڈیا، آن لائن شاپنگ، ڈیجیٹل بینکنگ اور دیگر انٹرنیٹ سروسز استعمال کرتے ہیں۔ ایسے میں سائبر سکیورٹی سے متعلق بنیادی معلومات ہر انٹرنیٹ صارف کے لیے ضروری بنتی جا رہی ہیں۔
پنجاب یونیورسٹی میں منعقد ہونے والا یہ آگاہی سیمینار طلبہ میں محفوظ اور ذمہ دارانہ ڈیجیٹل رویوں کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔




