تاریخ / مقام: لاہور / راولپنڈی
قومی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے صوبے سے کرپشن کے خاتمے، شفافیت اور احتساب کے ویژن کے تحت محکمہ جیل خانہ جات میں ایک انتہائی اہم اور بڑی کارروائی سامنے آئی ہے، جہاں آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کی مستعدی پر سپرنٹنڈنٹ جیل اٹک کو رشوت کے لفافے سمیت رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
واقعے کی تفصیلات اور رشوت کی پیشکش
موصولہ تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ جیل اٹک کے سپرنٹنڈنٹ عمران برتھ 5 اکتوبر 2026 کی رات تقریباً 10 بجے آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں سالک جلال سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کے لیے آئے۔ ملاقات کے دوران جیل کے انتظامی اور سکیورٹی امور پر گفتگو ہوئی جس کے بعد وہ روانہ ہو گئے، تاہم تقریباً دو منٹ بعد وہ واپس آئے اور کسی اہم معاملے پر بات کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
جب آئی جی جیل خانہ جات ڈرائنگ روم میں پہنچے تو عمران برتھ نے نوٹوں سے بھرا ہوا ایک لفافہ براہِ راست ان کی میز پر رکھ دیا۔
فوری کارروائی اور اینٹی کرپشن کے ذریعے گرفتاری
آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں سالک جلال نے فوری طور پر رشوت کی رقم قبول کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے اس کی اطلاع فوری طور پر سیکرٹری ہوم پنجاب کو دی، اور بعد ازاں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کو قانونی کارروائی کے لیے مطلع کیا گیا۔ اینٹی کرپشن حکام نے فوری ایکشن لیتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ جیل اٹک عمران برتھ کو رشوت کے لفافے سمیت رنگے ہاتھوں دبوچ لیا۔
محکمہ جیل خانہ جات کی زیرو ٹالرنس پالیسی
یہ کارروائی اس لحاظ سے انتہائی نوعیت کی حامل ہے کہ کرپشن کے خلاف یہ ایکشن کسی نچلے درجے کے اہلکار کے خلاف نہیں بلکہ محکمہ جیل خانہ جات کے ایک اہم انتظامی عہدے پر فائز سپرنٹنڈنٹ کے خلاف عمل میں لایا گیا ہے۔ اس کارروائی سے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ محکمے میں کرپشن کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔ آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں سالک جلال نے واضح کیا ہے کہ رشوت ستانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد جاری رہے گا اور کسی بھی افسر کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے واقعے کی مزید قانونی تحقیقات جاری ہیں۔
G24 News Online کرپشن کے خلاف جنگ، گڈ گورننس اور تمام اہم قومی خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




