تاریخ / مقام: ریاض / اسلام آباد
بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
خطے کی تازہ ترین سیکیورٹی صورتحال اور مقدس مقامات کے دفاع کے پیش نظر ریاض میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم تزویراتی سیاسی و دفاعی کمیٹی کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان اور ترکیہ نے اپنی افواج فوری طور پر سعودی عرب بھیجنے کا تاریخی فیصلہ کر لیا ہے۔
اعلیٰ سطح کی پاکستانی قیادت کی شرکت اور اہم نامزدگی
دفتر خارجہ سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ہنگامی اجلاس میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی۔ اجلاس کے دوران اہم عسکری امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود (ہلالِ امتیاز ملٹری) کی بطور ’مکہ الائنس فار ڈیفنس‘ کے پہلے سیکرٹری جنرل نامزدگی کی بھرپور توثیق کی گئی۔
فوجی دستوں کی فوری تعیناتی اور اجتماعی دفاعی اقدامات
اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے کے مطابق کمیٹی نے اجتماعی دفاعی وعدوں پر فوری طور پر عملی اقدامات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے تحت مشترکہ عسکری افواج اور مطلوبہ دفاعی صلاحیتیں فراہم کرتے ہوئے انہیں سعودی عرب میں تیزی سے تعینات کیا جائے گا۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ معاہدے کی شقوں کے مطابق سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے تینوں ممالک کا یہ اتحاد ان کے عزم کی پختہ عکاسی کرتا ہے۔ مشترکہ دفاعی اقدامات منظور شدہ طریقہ کار اور فریقین کے قومی قوانین کے مطابق ہوں گے۔
مقدس مقامات کے دفاع کا غیر متزلزل عزم
اجلاس میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں اور برادر ملک سعودی عرب کے خلاف جاری حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی گئی۔ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ معاہدے کے تحت ہر فریق کی سلامتی تینوں ممالک کی اجتماعی سلامتی کا اٹوٹ حصہ ہے، اور ‘مکہ معاہدے’ کو عملی اقدامات میں ڈھالنا اجتماعی دفاع کے عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
G24 News Online عالمی دفاعی امور، خطے کی سلامتی اور تمام اہم بین الاقوامی خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




