تاریخ / مقام: اسلام آباد
اقتصادی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان چوتھے اقتصادی جائزے کے مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں، اور رواں ہفتے کے دوران دونوں فریقین کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پانے کا روشن امکان ہے۔ مذاکرات کے دوران عالمی مالیاتی ادارے نے مختلف معاشی امور پر اہم مطالبات اور تجاویز پیش کی ہیں۔
پیٹرول سبسڈی اور شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن پر بحث
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے پیٹرول سبسڈی اسکیم جاری رکھنے پر تو رضامندی ظاہر کر دی ہے، تاہم یہ سخت مطالبہ کیا ہے کہ اس اسکیم میں مزید صارفین کا اضافہ نہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ، آئی ایم ایف مشن نے صوبوں کی رضامندی سے شوگر سیکٹر کو فوری طور پر ڈی ریگولیٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے مرکز کی شوگر پالیسی کو صوبائی خود مختاری میں مداخلت قرار دیے جانے کے باعث اس معاملے پر تحال مکمل اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا ہے۔
ٹیکس اہداف، ای وی ٹیکس چھوٹ اور گردشی قرضے
مذاکرات کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) نے رواں سال کا مقررہ ٹیکس ہدف حاصل کرنے کی مکمل یقین دہانی کرائی ہے، جس پر آئی ایم ایف نے جولائی تا ستمبر کے دوران محصولات میں ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ تاہم، عالمی فنڈ نے آٹو پالیسی کے تحت الیکٹرک وہیکلز (ای وی گاڑیوں) کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
آئی ایم ایف نے ملک میں گردشی قرضے میں کمی لانے، ڈسکوز (DISCOs) کے نقصانات پر قابو پانے اور ان کی نجکاری کے عمل کو مزید تیز کرنے پر بھی زور دیا ہے۔ معاشی ٹیم کی جانب سے دسمبر 2026 تک نئے این ایف سی ایوارڈ کے نفاذ کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، جبکہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی جی ڈی پی شرح نمو 4 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ تاہم، علاقائی کشیدگی کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ مذاکرات کی کامیابی کے بعد آئی ایم ایف مجموعی جائزے کا اعلامیہ جاری کرے گا، جس کے بعد پاکستان کو قرض پروگرام کی پانچویں قسط کے لیے آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی باضابطہ منظوری درکار ہوگی۔
G24 News Online ملکی معیشت، مالیاتی پالیسیوں اور تمام اہم قومی خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




