تحریر و تحقیق ۔۔ صالحہ کامران
آج کے ڈیجیٹل دور میں جہاں روایتی نوکریوں کے مواقع محدود ہو رہے ہیں، وہیں آئی ٹی اور فری لانسنگ نوجوان نسل کے لیے روزگار کا ایک بہترین متبادل بن کر ابھر رہے ہیں۔ اسی تناظر میں مسلم یوتھ لیگ اور “اپنا کماؤ” کے باہمی اشتراک سے لاہور میں ایک انتہائی مفید اور مفت آن لائن ارننگ و فری لانسنگ سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔
اس سیمینار کا مقصد نوجوانوں کو ڈیجیٹل ہنر سکھا نا اور مالی طور پر انہیں خود کفیل بناناتھا۔
سیمینار کی اہم خصوصیات اور نمایاں پہلو
1. نوجوانوں کی ریکارڈ شرکت
لاہور میں منعقدہ اس سیمینار میں طلبا، طالبات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پاکستانی شباب میں ڈیجیٹل سکلز سیکھنے اور آن لائن دنیا سے باوقار روزگار کمانے کی کتنی شدید تڑپ موجود ہے۔
2. ڈیجیٹل ہنر اور آن لائن ارننگ کا روڈ میپ
سیمینار کے دوران ماہرین نے شرکاء کو فری لانسنگ کے مختلف شعبوں، جیسے کہ کاپی رائٹنگ، گرافک ڈیزائننگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ای کامرس وغیرہ کے بارے میں عملی معلومات فراہم کیں۔ نوجوانوں کو بتایا گیا کہ کس طرح وہ اپ ورک (Upwork) اور فائور (Fiverr) جیسے عالمی پلیٹ فارمز پر اپنی پروفائل بنا کر پاکستان میں رہتے ہوئے غیر ملکی کرنسی میں کما سکتے ہیں۔
3. “یوتھ ڈائیلاگ” اور اوپن مائیک سیشن
اس سیمینار کی ایک خاص بات اس کے اختتام پر منعقدہ “یوتھ ڈائیلاگ” تھا۔ اوپن مائیک سیشن میں شرکاء کو کھل کر سوالات کرنے کا موقع دیا گیا۔ نوجوانوں نے ملک میں روزگار کی صورتحال، معاشی چیلنجز اور گورننس سے متعلق امور پر ماہرین سے سوالات کیے، جن کے تسلی بخش جوابات دیے گئے۔
اس کے علاوہ سیمینار میں کامیاب فری لانسر ز نے اپنے تجربات بھی شئیر کیے جن سے شرکاء کو کافی ترغیب ملی۔
یہ پیش رفت کیوں اہم ہے؟
- معاشی خودمختاری: ایسے مفت سیمینارز نوجوانوں کو بناء کسی بھاری فیس کے اپنی مہارت بڑھانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
- زرِ مبادلہ میں اضافہ: فری لانسنگ کے ذریعے ملک میں ڈالر لانے سے نا صرف فرد کی مالی حالت بہتر ہوتی ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی سہارا ملتا ہے۔
- مثبت رہنمائی: نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں سے بچا کر تعمیری اور با مقصد سمت میں گامزن کرنے کے لیے ایسی سرگرمیاں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
اختتامی کلمات
مسلم یوتھ لیگ اور “اپنا کماؤ” کا یہ اشتراک یقیناً قابلِ تحسین ہے۔ ایسے پلیٹ فارمز کی فراہمی سے ہمارے نوجوان نا صرف تعلیمی میدان بلکہ عملی اور معاشی میدان میں بھی خود کفیل ہو سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس قسم کے سیمینارز اور ورکشاپس کو لاہور کے علاوہ دیگر چھوٹے شہروں تک بھی پھیلایا جائے تاکہ ملک بھر کا ڈگری ہولڈر طبقہ ڈیجیٹل انقلاب کا حصہ بن سکے۔




