ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

انٹرنیشنل

ایران جنگ؛ امریکا کے 81 فوجی طیارے اور ڈرون تباہ، مالی نقصان 3.3 ارب ڈالر تک جا پہنچا! 🇺🇸📉

ایران جنگ؛ امریکا کے 81 فوجی طیارے اور ڈرون تباہ، مالی نقصان 3.3 ارب ڈالر تک جا پہنچا! 🇺🇸📉
Spread the love

تاریخ / مقام: واشنگٹن — امریکہ

بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

ایران کے خلاف جاری عسکری محاذ آرائی کے دوران امریکی فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کانگریشنل ریسرچ سروس (CRS) کی نئی اور تفصیلی رپورٹ کے مطابق اس تنازع کے دوران امریکا کے 81 فوجی طیارے اور ڈرونز یا تو مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں یا اس حد تک شدید نقصان کا شکار ہوئے ہیں کہ اب کسی بھی کام کے نہیں رہے۔ ان نقصانات کی مجموعی مالیت تقریباً 3.3 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔

تباہ ہونے والے جدید طیاروں اور اثاثوں کی تفصیلات

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی نقصانات میں جدید ترین جنگی طیاروں کے علاوہ نگرانی کرنے والے (Surveillance)، ایندھن بھرنے والے (Refueling) اور بغیر پائلٹ کے اڑنے والے ڈرون طیارے بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ امریکا نے اس جنگ میں درج ذیل اہم فضائی اثاثے کھوئے ہیں:

  • جنگی طیارے: ایک درجن (12) ’’ایف-15 ای‘‘، ایک ’’ایف-35 اے‘‘، دو ’’اے-10‘‘ اور سات ’’کے سی-135‘‘ طیارے۔
  • ہیلی کاپٹرز اور دیگر اثاثے: ایک ’’ای-3 سینٹری‘‘، دو ’’ایم سی-130 جے‘‘، ایک ’’ایچ ایچ-60 ڈبلیو‘‘ سرچ اینڈ ریسکیو ہیلی کاپٹر، ایک ’’ایم کیو-4 سی‘‘، تین ’’ایم کیو-1‘‘ اور 45 ’’ایم کیو-9‘‘ ریپر ڈرونز۔
  • اس کے علاوہ جنگی کارروائیوں کے دوران ایک ’’اے ایچ-64 اپاچی‘‘، چار ’’اے ایچ-6‘‘ اور ایک ’’ایم ایچ-60‘‘ ہیلی کاپٹر بھی ضائع ہو چکے ہیں۔

دوستانہ فائرنگ کے واقعات اور فضائی اڈوں پر حملے

رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ 2 مارچ کو کویت کی فضائی حدود میں اپنے ہی طیاروں کی فائرنگ (Friendly Fire) کے نتیجے میں ایف-15 کے تین طیارے تباہ ہوئے، جبکہ اگلے ماہ ایران کے اوپر پرواز کے دوران ایک اور ایف-15 مار گرایا گیا۔

مزید برآں، اردن میں واقع موافق السلطی ایئربیس پر 9 اور 10 ستمبر کو ہونے والے ایرانی حملوں کے دوران کم از کم آٹھ دیگر ایف-15 طیاروں کو بھی معمولی نقصان پہنچا۔

مالی لاگت اور ہتھیاروں کے بڑھتے ہوئے اخراجات

رپورٹ کے مطابق مالی تخمینے کے لحاظ سے ایک ’’ایم کیو-9 ریپر‘‘ ڈرون کی قیمت 30 سے 50 ملین ڈالر جبکہ ایک ’’ای-3 سینٹری‘‘ طیارے کی قیمت تقریباً 270 ملین ڈالر ہے۔ تاہم، حتمی نقصانات کے اعداد و شمار میں تبدیلی کا امکان موجود ہے کیونکہ بعض عسکری معلومات تاحال خفیہ ہیں اور کچھ متاثرہ طیارے مرمت کے بعد دوبارہ قابلِ استعمال بھی ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب، اس جنگ کے باعث امریکی ہتھیاروں اور گولہ بارود کی مجموعی لاگت بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جو محض ایک ماہ کے اندر 21.7 ارب ڈالر سے بڑھ کر 28.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔

G24 News Online عالمی جنگی صورتحال، دفاعی رپورٹس اور تمام اہم بین الاقوامی خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *