ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

انٹرنیشنل

امریکی بحری کمانڈر کی اعلیٰ افسران کے ساتھ سعودیہ آمد؛ آبنائے ہرمز اور بحری سلامتی پر اہم مذاکرات! 🇸🇦🇺🇸

امریکی بحری کمانڈر کی اعلیٰ افسران کے ساتھ سعودیہ آمد؛ آبنائے ہرمز اور بحری سلامتی پر اہم مذاکرات! 🇸🇦🇺🇸
Spread the love

تاریخ / مقام: ریاض — سعودی عرب

بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

خطے میں جاری کشیدگی اور اہم آبی گزرگاہوں کی صورتحال کے تناظر میں امریکی بحری افواج کی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر وائس ایڈمرل کرٹ رینشا اپنے اعلیٰ وفد کے ہمراہ سعودی عرب کے دورے پر پہنچے ہیں، جہاں انہوں نے سعودی عرب کے بحری افواج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل محمد الغریری سے اہم ملاقات کی۔

بحری سلامتی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تبادلہ خیال

سعودی وزارت دفاع کے مطابق، ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے عسکری حکام نے آبنائے ہرمز سمیت خطے کے اہم آبی راستوں میں آزادانہ اور محفوظ جہاز رانی کی اہمیت پر تفصیلی بات چیت کی۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی بحری تعاون کو مزید مضبوط بنانے، سمندری راستوں کو محفوظ رکھنے اور خطے میں پائیدار علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ سعودی وزارت دفاع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر جاری بیان میں اس امر کی تصدیق کی ہے کہ اس وزٹ کا مقصد بحری سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے عالمی اثرات

واضح رہے کہ فروری کے آخری روز سے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مسلط ہونے والی جنگ کے جواب میں ایران کی جانب سے انتہائی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا تھا، جو دنیا بھر میں تیل اور گیس کی ترسیل کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور خود امریکہ میں بھی تیل و اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

باب المندب کی ناکہ بندی اور حوثیوں کا محاذ

دوسری جانب یمن کے حوثیوں نے باب المندب کے مقام پر سعودی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے، جہاں صرف پیشگی اجازت لینے والے چند آئل ٹینکرز کو ہی گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے، جس کے باعث تیل کی ترسیل کا یہ راستہ بھی تقریباً بند ہو چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب نے باب المندب کی اس بحری ناکہ بندی کے پیشِ نظر امریکہ اور اسرائیل سے حوثیوں کے خلاف عسکری تعاون کا تقاضا کیا تھا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس میں شمولیت سے انکار کر دیا جبکہ اسرائیل نے بھی اس محاذ کو نہ کھولنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔

G24 News Online خطے کی بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال، عسکری پیشرفت اور تمام اہم بین الاقوامی خبریں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *