تاریخ / مقام: تہران — ایران
بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور معرکہ آرائی کے تناظر میں ایک بڑا بیان سامنے آیا ہے، جہاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں اور امریکی فوجی اثاثوں کو پہنچنے والا نقصان حکومت کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔
طیاروں کی تباہی سے متعلق نئے اعداد و شمار
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے ایک بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ رواں سال مئی میں امریکی کانگریس کی ریسرچ سروس نے یہ تسلیم کیا تھا کہ ایرانی مسلح افواج نے 42 امریکی فوجی طیارے تباہ کیے ہیں، جبکہ اب یہ تعداد بڑھ کر 81 تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے واشنگٹن انتظامیہ کی جانب سے جنگی نقصانات کو کم ظاہر کرنے کے رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
امریکی فوجی اڈوں کے معائنے کا چیلنج
اپنے دعوے کے حق میں دلیل پیش کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی فوجی اڈوں کی موجودہ صورتحال پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حریف فریق کے مطابق امریکی فوجی اڈوں کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا تو امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) ایک موجودہ سینیٹر کو ان فوجی اڈوں کا دورہ اور معائنہ کرنے کی اجازت کیوں نہیں دیتی؟ اس مؤقف کے ذریعے انہوں نے امریکی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ نقصانات کے اعداد و شمار کی شفافیت پر شدید سوالات اٹھائے ہیں۔
آزادانہ تصدیق کا فقدان
دوسری جانب، دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے امریکی طیاروں کی تباہی اور فوجیوں کی ہلاکتوں کے ان دعوؤں کی فی الحال کسی غیر جانبدار یا آزادانہ ذریعے سے فوری تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ اس کے علاوہ بیان میں یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ تباہ ہونے والے ان 81 طیاروں میں کس نوعیت اور کیٹیگری کے طیارے شامل ہیں۔ واضح رہے کہ تہران اور واشنگٹن کے مابین جاری کشیدگی میں دونوں جانب سے ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے وقتاً فوقتاً متضاد دعوے سامنے آتے رہے ہیں جن کی سچائی کا تعین کرنا اکثر مشکل ہوتا ہے۔
G24 News Online بین الاقوامی سفارت کاری، دفاعی امور اور تمام اہم عالمی خبریں اپنے قارئین تک بروقت اور غیر جانبدارانہ انداز میں پہنچاتا رہے گا۔




