تاریخ / مقام: کراچی — سندھ
قومی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
سندھ حکومت نے صوبے میں موسمیاتی تبدیلیوں اور ممکنہ سیلاب کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے مالی سال 2027 کے لیے ’سندھ فلڈ ریزیلینس پروجیکٹ‘ کے تحت 350 ملین امریکی ڈالر کی مالی معاونت کی تجویز ورلڈ بینک کے وفد کو پیش کر دی ہے۔ مجوزہ منصوبے کا بنیادی مقصد صوبے کے دیہی اور شہری علاقوں کو مستقبل میں ممکنہ سیلاب اور موسمیاتی خطرات سے مؤثر انداز میں محفوظ بنانا ہے۔
سندھ حکومت اور ورلڈ بینک کے وفد کا اہم اجلاس
صوبائی وزیر آبپاشی، منصوبہ بندی و ترقی جام خان شورو کی زیر صدارت صوبے کے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ورلڈ بینک کے وفد کی جانب سے لیڈ اربن اسپیشلسٹ سلیم روحانہ، ٹاسک ٹیم لیڈر و ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ اسپیشلسٹ بلال خالد اور امپارو سیمپر ہیرالڈو نے شرکت کی، جبکہ اس موقع پر چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو اور پی اینڈ ڈی بورڈ کے ممبر واٹر محمد احسان لغاری بھی موجود تھے۔
2022 کے تباہ کن سیلاب کے اثرات اور معاشی نقصانات
صوبائی وزیر جام خان شورو نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے سندھ میں تباہی مچائی تھی جس سے ایک کروڑ 46 لاکھ افراد متاثر ہوئے، جبکہ مالی اور بنیادی ڈھانچے کو مجموعی طور پر 9 ارب 10 کروڑ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔ سیلاب کے باعث صوبے میں 17 لاکھ 10 ہزار مکانات متاثر یا تباہ ہوئے تھے۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ دریائے سندھ کے دائیں کنارے کے 7 اضلاع میں سالانہ ایک ارب 11 کروڑ ڈالر کے معاشی نقصانات کا خطرہ موجود ہے، جبکہ ان علاقوں میں تقریباً 22 لاکھ 30 ہزار افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
عالمی بینک کے تعاون سے جاری ترقیاتی منصوبے
اجلاس کو بتایا گیا کہ ورلڈ بینک کے مالی تعاون سے جاری دیگر منصوبوں کے تحت اب تک ایک ارب 60 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت متحرک کی جا چکی ہے۔ اس فنڈنگ کے ذریعے 848 کلومیٹر سے زائد سڑکوں کی بحالی اور 205 کلومیٹر طویل حفاظتی بندوں کی مرمت کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ صوبے میں 9 لاکھ سے زائد گھروں کی تعمیر و مرمت کی گئی ہے، جبکہ 14 اضلاع میں ریسکیو 1122 کے 26 جدید اسٹیشنز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
منصوبے کی منظوری کا شیڈول اور اہم اجزاء
حکام کے مطابق سندھ فلڈ ریزیلینس پروجیکٹ کی سینٹرل ڈویلپমেন্ট ورکنگ پارٹی (CDWP) سے پروجیکٹ کانسیپٹ کلیئرنس 30 اکتوبر تک متوقع ہے، جبکہ اس کے پی سی ون کی منظوری دسمبر 2026 تک اور ورلڈ بینک کے بورڈ سے حتمی منظوری مارچ 2027 تک ملنے کی توقع ہے۔
مجوزہ منصوبے کے دو اہم حصے ہیں:
- بیسن لیول فلڈ ریزیلینس: اس کا بنیادی مقصد دریائے سندھ کے دائیں کنارے کے علاقوں (ایشین انسٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے تحقیقی جائزے کی روشنی میں) کو مستقبل کے سیلاب سے محفوظ بنانا ہے۔
- اربن ریزیلینس: اس کا مقصد سندھ کے ثانوی شہروں کو سیلاب، شدید گرمی اور دیگر موسمیاتی خطرات سے بچانا ہے جس میں شہری ڈرینیج، سڑکوں، گلیوں، عوامی مقامات کی بہتری اور ماحول دوست گرین سلوشنز کے لیے سرمایہ کاری شامل ہے۔
صوبائی وزیر جام خان شورو نے عزم ظاہر کیا کہ پائیدار شہری منصوبہ بندی، مؤثر ڈرینیج اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے سندھ کو قدرتی آفات اور موسمیاتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جائے گا۔
G24 News Online معاشی ترقی، ماحولیاتی اقدامات اور تمام اہم قومی خبریں اپنے قارئین تک بروقت اور حقائق پر مبنی انداز میں پہنچاتا رہے گا




