ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

انٹرنیشنل

ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی آبنائے ہرمز سے باہر بھی جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی! 🚢🔥

ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی آبنائے ہرمز سے باہر بھی جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی! 🚢🔥
Spread the love

ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی آبنائے ہرمز سے باہر بھی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی، ایل پی جی بردار جہاز پر حملے کا دعویٰ

تاریخ / مقام: تہران / خلیج فارس

بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران نے ایک بار پھر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے پاسدارانِ انقلاب کے ذریعے بڑی دھمکی جاری کی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے باہر بھی مبینہ خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کے خلاف سخت کارروائیاں کی جائیں گی اور یہ کارروائیاں اب صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہیں گی۔

غیر مجاز راستوں پر کڑی نظر اور تعاقب کی چیتانی

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ امریکی جارحیت پسندوں کے دھوکے میں آنے والے یا سمندری چٹانوں کو دھماکے سے اڑا کر بنائے گئے غیر مجاز بحری راستے اختیار کرنے والے کسی بھی جہاز کا پورے خطے میں تعاقب کیا جائے گا اور اسے یقینی طور پر سزا دی جائے گی۔

اس دوران پاسدارانِ انقلاب نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے ایک مائع پیٹرولیم گیس (LPG) بردار بحری جہاز کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔ تاہم، فراہم کردہ رپورٹس میں تاحال اس جہاز کی شناخت، حملے سے ہونے والے نقصان یا عملے کی ممکنہ صورتِ حال سے متعلق کوئی تفصیلی معلومات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔

آبنائے ہرمز کی بندش اور پس منظر

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت بالخصوص تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے دنیا کی انتہائی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے تیل اور گیس کی بڑی مقدار بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ تاہم، امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد رواں سال مارچ سے ایران نے اس آبی گزرگاہ کو بند کر رکھا ہے، جس کے بعد سے خطے میں بحری آمدورفت اور سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی کشیدہ چلی آ رہی ہے۔

G24 News Online بین الاقوامی سفارت کاری، خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور تمام اہم عالمی خبریں غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *