تاریخ / مقام: تہران
بین الاقوامی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ملک میں تیل، ریفائنریوں اور توانائی کی اہم تنصیبات پر امریکا اور اسرائیل کے پے درپے حملوں کے نتیجے میں سنگین نوعیت کے ماحولیاتی خطرات جنم لے رہے ہیں، جن کے تباہ کن اثرات فضا، زمین، پانی اور بالآخر انسانی غذائی زنجیر تک پہنچ سکتے ہیں۔
ماحولیاتی آلودگی اور فضا و زمین کو لاحق خطرات
اتوار کے روز ایک اہم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے انکشاف کیا کہ دارالحکومت تہران کے قریب تیل تنصیبات میں لگنے والی ہولناک آگ کے باعث انتہائی خطرناک زہریلے مادے فضا میں خارج ہوئے ہیں، جو ہوا، مٹی اور آبی ذخائر کو شدید آلودہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس ماحولیاتی آلودگی کے اثرات براہِ راست خوراک کے نظام تک پہنچنے کا خدشہ ہے، جس سے انسانی صحت اور مجموعی ماحولیاتی نظام کو طویل مدتی اور ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ماحول کو ‘خاموش متاثرہ فریق’ سمجھنے کا خاتمہ ہونا چاہیے
عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ اور عسکری تنازعات کے دوران ماحولیات کو پہنچنے والے نقصانات کو اب مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیے کہ ماحول کو جنگ کا “خاموش متاثرہ فریق” سمجھ کر چھوڑ دیا جائے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے جنگ کے نتیجے میں ہونے والے ماحولیاتی نقصانات کی فوری اور آزادانہ بین الاقوامی دستاویز بندی اور اس کی مکمل جانچ پڑتال کا پرزور مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ان ماحولیاتی جرائم کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، انہیں کٹہرے میں لا کر جواب دہ بنایا جائے اور متاثرہ علاقوں اور آبادیوں کے لیے مناسب معاوضے کا باقاعدہ انتظام کیا جائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان نے جنگی حالات میں ماحولیاتی تحفظ کے اہم اور نظر انداز شدہ پہلو کو اجاگر کیا ہے، تاہم ان نقصانات کی اصل شدت اور آلودگی کے دائرہ کار کا قطعی تعین کرنے کے لیے غیر جانبدار سائنسی تحقیقات ناگزیر ہوں گی۔
G24 News Online مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، ماحولیاتی اثرات اور تمام بین الاقوامی بریکنگ اپ ڈیٹس غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




