تاریخ / مقام: تہران / اسلام آباد
انٹرنیشنل و مڈل ایسٹ ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
مشرقِ وسطیٰ میں جاری تناؤ کے دوران ایران کی جانب سے ایک اور انتہائی سخت سیکیورٹی انتباہ سامنے آیا ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں دوبارہ باقاعدہ جنگ کا آغاز ہوا تو خلیجی ممالک میں قائم امریکا سے منسلک ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت (AI) کی جدید تنصیبات اور زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنا کر تباہ کیا جا سکتا ہے۔
محسن رضائی کا بیان اور الٹی میٹم
بین الاقوامی خبر رساں ادارے الجزیرہ نے ایرانی سرکاری میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے سینئر سیکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے اپنے ایک سخت ترین بیان میں دھمکی دی ہے کہ جنگ کی صورت میں خطے میں موجود امریکی ڈیجیٹل اور مواصلاتی انفراسٹرکچر اب غیر محفوظ ہو چکا ہے۔
محسن رضائی کے مطابق، امریکا نے متحدہ عرب امارات (UAE) اور خاص طور پر سٹریٹیجک لحاظ سے اہم آبنائے ہرمز کے اطراف اربوں ڈالر کے انتہائی مہنگے اور جدید ٹیکنالوجی کے اثاثے قائم کر رکھے ہیں۔
ڈیجیٹل انفراسٹرکچر ہدف بننے کا خدشہ
ایرانی عہدیدار نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ:
- ایران نے تاحال خطے میں بچھائی گئی ان مواصلاتی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کے مراکز کو اپنے فوجی اہداف کی فہرست میں شامل نہیں کیا تھا۔
- اگر جنگ دوبارہ چھڑتی ہے تو ایران ان تمام امریکی تنصیبات سمیت متعدد دیگر اہم سائٹس کو مکمل طور پر تباہ کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔
سائبر اور فوجی ماہرین کے مطابق ایرانی عہدیدار کی اس تازہ ترین دھمکی سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مستقبل کی کسی بھی ممکنہ کشیدگی میں امریکا اور اس کے اتحادیوں سے وابستہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، کلاؤڈ ڈیٹا سینٹرز اور ٹیکنالوجی نیٹ ورکس بھی اب مستحکم اہداف میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، یہ بیان کسی حملے کے بجائے آئندہ کے لیے انتباہ اور ممکنہ حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔
G24 News Online مشرقِ وسطیٰ کی پیدا شدہ صورتحال، عالمی امور اور تمام اہم بریکنگ خبریں غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




