ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

انٹرنیشنل

کینسر کے خوف سے انٹارکٹیکا کا سفر کرنے والی 67 سالہ چینی خاتون کی رسولی معجزاتی طور پر کم ہو گئی! 🇨🇳❄️🐧

کینسر کے خوف سے انٹارکٹیکا کا سفر کرنے والی 67 سالہ چینی خاتون کی رسولی معجزاتی طور پر کم ہو گئی! 🇨🇳❄️🐧
Spread the love

تاریخ / مقام: بیجنگ / کنمنگ / اسلام آباد

انٹرنیشنل و ہیومن انٹرسٹ ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

چین میں ایک انتہائی عزم اور جرات کی مثال سامنے آئی ہے جہاں کینسر کی تشخیص کے بعد تمام تر جمع پونجی انٹارکٹیکا کے سفر پر خرچ کرنے والی 67 سالہ خاتون کی رسولی کا حجم معجزاتی طور پر کم ہو گیا۔ اس انوکھے اور جذباتی تجربے نے خاتون کو نہ صرف کینسر کے خوف سے نکالا بلکہ جینے کا نیا مقصد بھی دے دیا۔

جنوب مغربی چین کے صوبے یون نان کے دارالحکومت کنمنگ سے تعلق رکھنے والی وانگ ینگ جنگلی حیات (Wild Life) کی شوقیہ فوٹوگرافر ہیں، جو اب تک پرندوں کی 1200 سے زائد نایاب اقسام کو اپنے کیمرے میں محفوظ کر چکی ہیں۔

کینسر کی تشخیص اور علاج سے انکار

رپورٹس کے مطابق 2013 میں اپنی ریٹائرمنٹ کی تیاریوں کے دوران وانگ ینگ میں تھائیرائیڈ کینسر (Thyroid Cancer) کی تشخیص ہوئی۔ ڈاکٹروں نے انہیں فوری طور پر سرجری کروانے کا مشورہ دیا، تاہم وہ اس ہولناک خبر سے شدید ذہنی صدمے کا شکار ہوئیں اور انہوں نے آپریشن کروانے کے بجائے انٹارکٹیکا جا کر پینگوئنز کی تصاویر بنانے کا غیر معمولی فیصلہ کیا۔

وانگ ینگ کا کہنا تھا:

“اگر مجھے مرنا ہی ہے تو میں ہسپتال کے بستر کے بجائے دنیا کے کسی دور دراز اور خوبصورت مقام پر مرنا پسند کروں گی، میں کسی صورت سرجری نہیں کروانا چاہتی تھی۔”

منفی 10 ڈگری میں پینگوئن کی نایاب تصویر کا جنون

انہوں نے انٹارکٹیکا کے ایک ماہ طویل سفر کے لیے ڈیڑھ لاکھ چینی یوآن (تقریباً 22 ہزار امریکی ڈالر) خرچ کیے، جس کے لیے ان کی والدہ نے بھی مالی مدد کی۔

انٹارکٹیکا میں منفی 10 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت، تیز یخ بستہ ہواؤں اور شدید برف باری کے باوجود وہ گھنٹوں برف پر کھڑی رہیں۔ ان کی سب سے بڑی خواہش ایک ایسی ماں پینگوئن کی تصویر بنانا تھی جو اپنے بچے کو خوراک کھلا رہی ہو۔ بالآخر طویل انتظار کے بعد انہوں نے یہ نایاب اور جذباتی منظر اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر ہی لیا۔

ہسپتال واپسی اور معجزاتی بہتری

انٹارکٹیکا سے واپسی پر جب وانگ ینگ طبی معائنے کے لیے ہسپتال گئیں تو ڈاکٹرز اور وہ خود یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ ان کی رسولی (Tumor) کا حجم پچھلے معائنے کے مقابلے میں واضح طور پر کم ہو گیا تھا۔ ڈاکٹروں نے انہیں فی الحال آپریشن سے روکتے ہوئے صرف باقاعدہ نگرانی کا مشورہ دیا۔

اس واقعے نے وانگ کو ایک نئی زندگی اور امید بخشی۔ اس کے بعد سے انہوں نے اپنی تمام تر پنشن اور وقت پرندوں کی فوٹوگرافی کے لیے وقف کر دیا ہے۔ وہ اب تک 30 سے زائد ممالک کا سفر کر چکی ہیں اور ان کا ارادہ امسال امریکہ، پیرو اور افریقہ کے مختلف ممالک کا دورہ کرنے کا ہے۔

چین کے سوشل میڈیا پر وانگ ینگ کی یہ تحیر کن کہانی وائرل ہو چکی ہے، جہاں صارفین کا کہنا ہے کہ انسان کی مثبت سوچ، خوشگوار موڈ اور جذبہِ حیات انسان کے مدافعت نظام (Immune System) کو مضبوط بنا کر بیماریوں کو شکست دینے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

G24 News Online دنیا بھر کی وائرل، متاثر کن اور بین الاقوامی خبریں غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *