ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

پاکستان

کالے بچھوؤں کی فروخت سے کمائے گئے 24 ارب روپے بینکوں نے دبا لیے؛ سندھ ہائیکورٹ کا اسٹیٹ بینک اور فریقین کو نوٹس! ⚖️🏛️

کالے بچھوؤں کی فروخت سے کمائے گئے 24 ارب روپے بینکوں نے دبا لیے؛ سندھ ہائیکورٹ کا اسٹیٹ بینک اور فریقین کو نوٹس! ⚖️🏛️
Spread the love

تاریخ / مقام: کراچی

قومی و قانونی ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

پاکستان میں کالے بچھوؤں (Black Scorpions) کی برآمد اور اس کے عوض ملنے والی کروڑوں اربوں روپے کی غیر ملکی ترسیلات کے تنازع نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے کالے بچھوؤں کی فروخت کی رقم بینکوں کی جانب سے جاری نہ کرنے کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سمیت تمام فریقین کو ایک ماہ کے اندر اپنا جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا ہے۔

مقدمے کا پس منظر اور درخواست گزاروں کا مؤقف

سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو محمد صدیق، رضی، ریاض احمد اور دیگر شہریوں کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل ساجد محبوب ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ پاکستانی شہریوں کی جانب سے 23 ارب روپے مالیت کے کالے بچھو ایک جرمن کمپنی کو فروخت کیے گئے تھے۔

معاہدے کے مطابق جرمن کمپنی نے 2014 میں بارکلیز بینک کے توسط سے 24 ارب روپے کی خطیر رقم پاکستانی بینکوں میں منتقل کی، تاہم متعلقہ بینکوں کی جانب سے یہ قانونی رقم تاحال حق دار شہریوں یا اصل مالکان کو جاری نہیں کی جا رہی ہے۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزاروں نے تمام تر زرمبادلہ اور ترسیلات انتہائی شفاف اور قانونی بینکاری ذرائع سے قومی خزانے کے حوالے کیں۔

عدالت میں فریقین اور استدعا

درخواست گزاروں کی جانب سے دائر مقدمے میں اسٹیٹ بینک، وزارتِ خزانہ اور چار بڑے نجی بینکوں کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ نجی بینک غیر ملکی ترسیلات کی وصولی، ان کی تصدیق اور اصل زر مبادلہ کی فراہمی میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں، جو کہ مالیاتی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

درخواست گزاروں نے عدالتِ عالیہ سے استدعا کی ہے کہ:

  • اسٹیٹ بینک کے کسی سینئر افسر کے ذریعے اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ اور آزادانہ انکوائری کرائی جائے۔
  • تمام متعلقہ نجی اور سرکاری بینکوں کو ہدایت کی جائے کہ وہ اس مقدمے سے متعلق تمام قانونی اور الیکٹرانک ریکارڈ (Electronic Records) کو محفوظ بنائیں۔
  • فریقین کو حکم دیا جائے کہ وہ روکے گئے فنڈز فوری طور پر واگزار کریں۔

عدالت کا ایک ماہ میں جواب طلب کرنے کا حکم

عدالتی کارروائی کے دوران اسٹیٹ بینک سمیت متعدد نجی بینکوں کے وکلاء کی جانب سے جواب داخل کرانے کے لیے مہلت طلب کی گئی۔ عدالتِ عالیہ کے آئینی بینچ نے استدعا منظور کرتے ہوئے تمام فریقین کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ ایک ماہ کے اندر تفصیلی جواب عدالت میں جمع کرائیں۔

G24 News Online عدالتوں، مالیاتی اداروں اور تمام اہم قومی بریکنگ اپ ڈیٹس غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *