تاریخ / مقام: صنعا / ریاض / اسلام آباد
انٹرنیشنل و مڈل ایسٹ ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
یمن میں حوثی باغیوں اور سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کے درمیان معرکہ آرائی اور حملوں کی شدت میں ناگہانی اضافہ ہو گیا ہے۔ دونوں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے (Energy Infrastructure) کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات کے بعد سعودی اتحاد نے جولائی کے بعد پہلی مرتبہ یمن کے دارالحکومت صنعا کے شہریوں کے لیے باضابطہ انخلا (Evacuation) کا حکم جاری کر دیا ہے۔
آرامکو پر حملہ اور ریاض میں میزائل ملبہ گرنے سے 4 افراد زخمی
سعودی عرب کے سرکاری حکام نے بدھ کے روز تصدیق کی کہ ملک کے مشرقی خطے میں سعودی تیل کی قومی کمپنی آرامکو (Aramco) کی ایک عمارت پر حوثی حملے کے نتیجے میں محدود پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔
دوسری جانب، سعودی دارالحکومت ریاض کی فضا میں حوثیوں کے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کو دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کیا گیا، تاہم ان کے ملبے کے رہائشی علاقوں میں گرنے سے 4 افراد شدید زخمی ہو گئے۔ یہ کشیدگی منگل کے روز مغربی یمن میں تیل کی تنصیبات اور حوثی اہداف پر سعودی اتحاد کے حملوں کے بعد مزید بڑھی ہے۔
صنعا، ذمار اور صعدہ میں حوثی لوجسٹک تنصیبات نشانہ
سعودی عسکری اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ (X) پر جاری اپنے بیان میں بتایا کہ یمن کے دارالحکومت صنعا کے علاوہ مغربی صوبوں ذمار اور صعدہ میں حوثیوں کی ان اہم ملٹری تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے جو ان کی جنگی سرگرمیوں کے لیے لاجسٹک رسد فراہم کرتی تھیں۔
ترجمان کے مطابق یہ تمام تنصیبات سعودی عرب، یمن، بحیرہ احمر کے جنوبی حصے اور بین الاقوامی بحری گزرگاہوں کے سیکیورٹی کے لیے براہِ راست خطرہ بن چکی تھیں۔ سعودی اتحاد کی جانب سے صنعا کے باشندوں کے لیے جاری کیا جانے والا انخلا کا حکم رواں سال جولائی کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا حکم ہے، جس سے دارالحکومت پر بڑے پیمانے کے حملوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
خطے کی معیشت اور بحری سلامتی کو خطرات
توانائی کے بنیادی ڈھانچے، آئل تنصیبات اور شہری آبادیوں پر بلا تعطل حملوں نے مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال کو حد درجے تشویشناک بنا دیا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق تیل کی تنصیبات پر حملے نہ صرف خطے کی معیشت بلکہ بحیرہ احمر میں خام تیل کی ترسیل اور بحری جہاز رانی کی سلامتی کو بھی سخت متاثر کر سکتے ہیں۔
اگرچہ تازہ واقعات میں مجموعی مالی نقصان اور تیل کی عالمی سپلائی پر پڑنے والے اثرات کی تفصیلی رپورٹ کا انتظار ہے، تاہم حالات خطے میں ایک نئی اور زیادہ تباہ کن جنگ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
G24 News Online مشرقِ وسطیٰ کے بحران، عالمی جنگی صورتحال اور تمام اہم بین الاقوامی بریکنگ اپ ڈیٹس غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




