ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

انٹرنیشنل

روسی افسر کا سنسنی خیز اقدام؛ اپنے ہی فوجیوں کی مخبری کے بعد پوٹن مخالف فورس میں شامل! 🇷🇺🇺🇦

روسی افسر کا سنسنی خیز اقدام؛ اپنے ہی فوجیوں کی مخبری کے بعد پوٹن مخالف فورس میں شامل! 🇷🇺🇺🇦
Spread the love

تاریخ / مقام: واشنگٹن / ماسکو / کیف / اسلام آباد

انٹرنیشنل ڈیسک — G24 News Online

تفصیل:

روسی فوج کے اندر سے بغاوت اور خفیہ مخبری کی ایک سنسنی خیز داستان سامنے آئی ہے۔ امریکی معروف اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ (WSJ) کی ایک خصوصی اور دھماکہ خیز رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روسی فوج کے ایک 26 سالہ مواصلاتی افسر نے نہ صرف ماسکو سے علمِ بغاوت بلند کیا بلکہ اپنے ہی فوجی ساتھیوں کی حساس معلومات یوکرینی انٹیلی جنس تک پہنچا کر یوکرین میں پوٹن حکومت کے خلاف لڑنے والی فورس میں شمولیت اختیار کر لی۔

حساس معلومات کا افشا اور یوکرینی میزائل حملہ

رپورٹ کے مطابق 26 سالہ لیفٹیننٹ لیو اسٹوپنیکوف (Lev Stupnikov) روسی فوج میں کمیونیکیشنز (مواصلات) کے شعبے میں ذمہ داریاں انجام دے رہا تھا۔ اس عہدے کی حساسیت کے باعث وہ روسی فوجیوں کی نقل و حرکت، جنگی حکمتِ عملی، ڈرونز کی لوکیشن اور نگرانی کے کیمروں کے نظام سے مکمل واقف تھا۔

اخبار کے مطابق لیو اسٹوپنیکوف نے یہ تمام حساس معلومات خفیہ طور پر یوکرینی ملٹری انٹیلی جنس کو فراہم کیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر یوکرین کی جانب سے کیے گئے ایک خطرناک میزائل حملے کے نتیجے میں 68 روسی فوجی ہلاک اور 60 شدید زخمی ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں اعلیٰ روسی کمانڈر کرنل گوسین موسیایف بھی شامل تھے۔ اگرچہ 300 کے قریب مجموعی ہلاکتوں میں اس کے کردار کے دعوے سامنے آئے ہیں، تاہم اخبار کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار فراہم کردہ رپورٹس پر مبنی ہیں۔

فرار کا منصوبہ، والدہ کی مدد اور یوکرینی مورچوں میں آمد

لیفٹیننٹ اسٹوپنیکوف نے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے بتایا کہ فروری 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد معصوم شہریوں کے قتلِ عام نے ان کی سوچ بدل دی اور وہ اس جنگ کے خلاف ہو گئے۔

رپورٹ کے مطابق:

  • فروری 2024 میں اس کی والدہ تاتیانا یانتسن نے اسے یوکرینی انٹیلی جنس کے ساتھ خفیہ رابطے قائم کرنے میں مدد فراہم کی۔
  • جولائی 2024 کی ایک تاریک رات میں وہ اپنی فوجی یونٹ چھوڑ کر 40 منٹ کے پیدل سفر کے بعد خطرہ مول لیتے ہوئے یوکرینی مورچوں تک پہنچ گیا۔
  • پہلے سے طے شدہ کوڈ ورڈ اور انٹیلی جنس تصدیق کے بعد اسے فوری طور پر تحویل میں لے لیا گیا۔

بعد ازاں، وہ ’رشین رضاکار کور‘ (Russian Volunteer Corps) میں شامل ہو گیا، جو کہ پیوٹن حکومت کے خلاف یوکرین کی طرف سے لڑنے والے نسلی روسی شہریوں پر مشتمل ہے، اور اب وہاں کمیونیکیشن ماہر کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے۔

روس سے غداری یا حلف کی پاسداری؟

اس واقعے نے سفارتی اور عسکری حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ اسٹوپنیکوف کی اہلیہ لیزا نے اپنے شوہر پر روس اور اپنی ازدواجی زندگی دونوں سے غداری کا الزام لگایا۔

تاہم، لیو اسٹوپنیکوف کا کہنا ہے:

“میں نے ملٹری اکیڈمی میں ملک کی آزادی، خودمختاری اور آئینی نظام کے تحفظ کا حلف اٹھایا تھا، اور صدر ولادیمیر پوٹن نے یوکرین پر حملہ کر کے آئین اور آزادی کے بنیادی اصولوں کو پامال کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ میرا اقدام میرے اسی حلف کے عین مطابق ہے۔”

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ روسی فوج کے اندر ایک ایسا خفیہ نیٹ ورک بھی موجود ہے جو خاموشی سے پوٹن انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف کام کرتے ہوئے یوکرین کو حساس عسکری معلومات فراہم کر رہا ہے۔

G24 News Online روس یوکرین جنگ، عالمی تنازعات اور تمام اہم بین الاقوامی بریکنگ اپ ڈیٹس غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *