تاریخ / مقام: روم / بغداد / اسلام آباد
بین الاقوامی و معاشی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
مشرقِ وسطیٰ میں ریاستہائے متحدہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی حالات کے شدید اثرات خطے کی معیشتوں پر پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ جنگ کے نتیجے میں عراق کو تقریباً 60 ارب ڈالر کے بھاری مالی و معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ تیل کی برآمدات میں نمایاں کمی، ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں گراوٹ اور مہنگائی نے عراقی معیشت کو ایک ہولناک بحران میں دھکیل دیا ہے۔
عراقی وزیر خارجہ فواد حسین کا اطالوی ہم منصب سے اہم انکشاف
عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ حقائق اور اعداد و شمار عراق کے وزیرِ خارجہ فواد حسین نے روم میں اپنے اطالوی ہم منصب سے ایک اہم ملاقات کے دوران پیش کیے۔ عراقی وزیر خارجہ نے اطالوی حکام کو آگاہ کیا کہ خطے میں جاری اس جنگ نے عراق کے معاشی ڈھانچے کو کس طرح متاثر کیا ہے۔
تیل پر انحصار، برآمدات میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ
عراقی وزارتِ تیل کی جاری کردہ رپورٹس اور اعداد و شمار کے مطابق:
- تیل کی برآمدات: یکم سے 21 ستمبر کے دوران عراق کی تیل کی برآمدات گھٹ کر یومیہ 26 لاکھ بیرل پر آ گئیں۔
- معیشت کا تیل پر انحصار: واضح رہے کہ عراق کی معیشت کا 90 فیصد انحصار خام تیل کی فروخت پر ہے، جس سے حاصل ہونے والے ڈالرز ملکی درآمدات، مقامی کرنسی کے استحکام اور سرکاری ملازمین و پنشنرز کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
- ذخائر اور مہنگائی: جنگ کے اثرات کی وجہ سے ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 20 ارب ڈالر کی ہولناک کمی واقع ہوئی ہے جبکہ عوام کے لیے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں سنسنی خیز اضافہ ہوا ہے۔
عراقی دینار کی قدر میں کمی اور 2037 کا ویژن
معاشی دباؤ پر قابو پانے اور بحران کو سنبھالنے کے لیے عراقی مرکزی بینک نے گزشتہ تین سال سے زائد عرصے میں پہلی بار امریکی ڈالر کے مقابلے میں عراقی دینار کی قدر کم (Devalue) کرنے کا سخت قدم اٹھایا ہے۔
حکام کے مطابق، عراق اس معاشی دھچکے سے سبق سیکھتے ہوئے سال 2037 تک غیر تیل ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی کے تناسب کو موجودہ 10 فیصد سے بڑھا کر 45 فیصد تک لے جانے کا عزم رکھتا ہے تاکہ آئندہ تیل پر انحصار کو ختم کیا جا سکے۔ اگرچہ گزشتہ ماہ تیل کی پیداوار میں معمولی بہتری آئی ہے، تاہم عراق اب بھی شدید معاشی خطرات اور مالیاتی بحران سے نبرد آزما ہے۔
G24 News Online مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات، عالمی معیشت اور تمام اہم بین الاقوامی بریکنگ اپ ڈیٹس غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




