تاریخ / مقام: اسلام آباد
قومی و عدالتی ڈیسک — G24 News Online
تفصیل:
وفاقی آئینی عدالت میں مبینہ کم سن مسیحی لڑکی ماریہ شہباز شادی کے نظرثانی کیس کی سماعت ہوئی، جس کے دوران عدالت نے فریقین کو سنتے ہوئے شادی شدہ جوڑے شہریار اور ماریہ کو دوبارہ نوٹس جاری کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
قائم مقام چیف جسٹس حسن رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس کے کے آغا بھی شامل تھے۔
عدالتی کارروائی اور وکلاء کے دلائل
سماعت کے آغاز پر جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ نظرثانی کا مقدمہ ہے، اس لیے وکلاء عدالت کی نشاندہی کریں کہ سابقہ فیصلے میں قانونی غلطی کیا واقع ہوئی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل ثاقب جیلانی نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ فیصلے میں جن عدالتی نظائر (Precedents) پر انحصار کیا گیا تھا، اب وہ تبدیل ہو چکی ہیں کیونکہ وفاقی شرعی عدالت اس حوالے سے نئی نظیر قائم کر چکی ہے، جس کی پابندی تمام عدالتوں پر لازم ہے۔
قائم مقام چیف جسٹس کے اہم ریمارکس
قائم مقام چیف جسٹس حسن رضوی نے کیس کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے ریمارکس دیے کہ:
- یہ عدالت کے سامنے بنیادی طور پر حبسِ بے جا سے متعلق ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل تھی، جس پر فیصلہ دیا گیا۔ سماعت کے دوران لڑکی اور لڑکا دونوں عدالت میں ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے تھے۔
- ریکارڈ کے مطابق لڑکی کا برتھ سرٹیفکیٹ واقعے کے 10 سال بعد بنوایا گیا جبکہ نادرا سرٹیفکیٹ 8 سال بعد حاصل کیا گیا۔
- لڑکی ماریہ شہباز نے خود عدالت کے روبرو بیان دیا تھا کہ وہ کم سن نہیں بلکہ بالغ ہے، اور لڑکی کی عمر سے متعلقہ کوئی بھی اعتراض یا نشاندہی متعلقہ فورم پر نہیں کی گئی۔
وکیل ثاقب جیلانی نے دلائل دیے کہ تمام عدالتی فورمز کی قانونی ذمہ داری تھی کہ وہ لڑکی کی ویلفیئر (فلاح و بہبود) کو مکمل پروٹیکٹ کرتے۔ اس پر قائم مقام چیف جسٹس نے واضح کیا کہ وفاقی عدالت کے سامنے اصل مقدمہ لڑکی کی عمر کا نہیں بلکہ حبسِ بے جا کی اپیل کا تھا، اور اگر فریقین کو لڑکی کی عمر پر کوئی ابہام تھا تو انہیں فیملی کورٹ سے رجوع کرنا چاہتاتھا۔
عدالت کا نوٹس جاری کرنے کا حکم
عدالتی عملے نے آگاہ کیا کہ لڑکے کو تاحال نوٹس کی باقاعدہ تعمیل نہیں ہو سکی ہے، جس پر عدالت نے لڑکی اور لڑکے کو دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید کارروائی ملتوی کر دی۔
G24 News Online عدالتی فیصلوں، قانون سازی، اور تمام اہم قومی بریکنگ اپ ڈیٹس غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے قارئین تک بروقت پہنچاتا رہے گا۔




