ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

پاکستان

⚖️ گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتیں مل کر طے کرنا غیر قانونی قرار؛ سپریم کورٹ نے پی وی ایم اے کا 3 کروڑ روپے جرمانہ برقرار رکھ دیا

⚖️ گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتیں مل کر طے کرنا غیر قانونی قرار؛ سپریم کورٹ نے پی وی ایم اے کا 3 کروڑ روپے جرمانہ برقرار رکھ دیا
Spread the love

اسلام آباد/ بزنس اینڈ لیگل ڈیسک: سپریم کورٹ آف پاکستان نے گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں کے تعین سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قیمتوں کے اجتماعی تعین (Collective Price Fixing) کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (CCP) کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PVMA) کو 3 کروڑ روپے جرمانہ فوری جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

📌 سپریم کورٹ کا فیصلہ اور ججوں کے ریمارکس

  • دو رکنی بینچ کا فیصلہ: جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس صلاح الدین پنہور پر مشتمل سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے سماعت کے بعد سی سی پی اور کمپٹیشن اپیلیٹ ٹربیونل کے مؤقف کی مکمل توثیق کی۔
  • کمپٹیشن ایکٹ کی خلاف ورزی: عدالت نے قرار دیا کہ گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں کا اجتماعی تعین کرنا قانوناً کمپٹیشن ایکٹ کے سیکشن 4 کی صریح خلاف ورزی ہے۔
  • جرمانے کی ادائیگی: عدالت نے پی وی ایم اے کی خلاف ورزیوں پر عائد کردہ 3 کروڑ روپے کا جرمانہ برقرار رکھتے ہوئے اسے جمع کرانے کا حکم دیا۔

🔍 فیصلے کے اہم قانونی نکات اور آبزرویشنز

  • آزادانہ قیمتوں کا تعین: عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ مسابقتی کاروباری اداروں کو اپنی قیمتیں ہمیشہ آزادانہ طور پر خود طے کرنا ہوں گی۔ کسی بھی تجارتی ایسوسی ایشن کے ذریعے اجتماعی قیمتوں کا تعین مارکیٹ میں مقابلے (Competition) کی فضا کو محدود کرتا ہے۔
  • کم قیمت بھی اجتماعی طور پر طے نہیں ہوسکتی: فیصلے میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ اگر قیمت کم بھی ہو، تب بھی مسابقتی کاروباری اداروں کا مل کر قیمت طے کرنا جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
  • عوامی مفاد کا غلط استعمال: عدالت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی مفاد کا مبہم مقصد بھی اجتماعی پرائس فکسنگ کو قانونی جواز فراہم نہیں کر سکتا۔ مشترکہ قیمت کا تعین کبھی بھی آزادانہ مسابقتی قیمتوں کی جگہ نہیں لے سکتا۔

🏛️ وفاقی حکومت اور سی سی پی کا مؤقف درست قرار

  • سی سی پی سے رجوع کرنے کی ہدایت: عدالت نے قرار دیا کہ قیمتوں کے معاملے پر وفاقی حکومت کو بائی پاس نہیں کیا جا سکتا تھا، اور اس ضمن میں سی سی پی سے رجوع کرنا ضروری تھا۔
  • قانون شکنی کا ارتکاب: سی سی پی کو بائی پاس کر کے پی وی ایم اے کی جانب سے باہم مشاورت کے ساتھ قیمتوں کا تعین کرنا کمپٹیشن ایکٹ کی خلاف ورزی کا براہِ راست باعث بنا ہے۔ ہر کاروباری ادارے کو اپنی تجارتی ضروریات کے تحت انفرادی طور پر فیصلے کرنے کا پابند ہونا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *