ہمارا آفیشل واٹس ایپ چینل جوائن کریں!
Skip to main content

G24 News Online

پاکستان

⚖️ سپریم کورٹ نے عمران خان کو جو ریلیف دیا وہ عام قیدی کو کیوں نہیں دیا جا سکتا؟ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اہم دلائل

⚖️ سپریم کورٹ نے عمران خان کو جو ریلیف دیا وہ عام قیدی کو کیوں نہیں دیا جا سکتا؟ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اہم دلائل
Spread the love

اسلام آباد/ قانونی ڈیسک: اسلام آباد ہائیکورٹ میں قیدیوں کی طبی سہولیات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے اہم قانونی نکتہ اٹھاتے ہوئے استفسار کیا ہے کہ جو ریلیف سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو دیا ہے، وہی عام قیدی کو کیوں فراہم نہیں کیا جا سکتا؟

📌 اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت اور قیدی کی ابتر طبی حالت

  • عدالت اور جج: اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد آصف نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید ملک، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیرسٹر ظفر اللہ اور جیل حکام عدالت میں پیش ہوئے، جہاں اویس الطاف، الیاس خان اور محمد اسماعیل نامی تین قیدیوں سے متعلق جیل رپورٹس پیش کی گئیں۔
  • خطرناک عارضہ: وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ ایک قیدی گزشتہ 6 ماہ سے جیل میں قید ہے اور وہ بڑی آنت میں انٹرنل بلیڈنگ (خون بہنے) اور تھیلیسیمیا جیسی موذی اور پیچیدہ بیماری کا شکار ہے، جس سے اس کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
  • اسپتال منتقلی کی استدعا: وکیل نے زور دیا کہ مریض کی نازک حالت کے پیش نظر اسے فوری طور پر کسی نجی اسپتال میں منتقل کیا جانا چاہیے تاکہ اسے مناسب طبی سہولیات مل سکیں، بصورت دیگر اس کی ذمہ داری جیل حکام پر عائد ہوگی۔

⚖️ سپریم کورٹ کے 18 اگست کے فیصلے کا حوالہ اور وکیل کے دلائل

  • عدالتی نظیر اور مساوات: درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا 18 اگست کا آرڈر آج بھی برقرار ہے اور یہ عدالت اس فیصلے پر عمل درآمد کی پابند ہے۔ یہ کیس ایک انڈر ٹرائل قیدی کا ہے جبکہ سپریم کورٹ نے تو ایک سزا یافتہ قیدی (بانی پی ٹی آئی) کے کیس میں یہ خصوصی ریلیف عطا کیا تھا۔
  • میڈیکل بورڈ اور اخراجات: وکیل نے مؤقف اپنایا کہ سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کے معاملے میں ان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ خان کو میڈیکل بورڈ کے ساتھ ایسوسی ایٹ کیا اور نجی اسپتال میں علاج کے تمام اخراجات خود قیدی یا اس کے اہل خانہ کی طرف سے برداشت کرنے کی ہدایت کی، تو پھر یہی معیار عام قیدیوں کے لیے کیوں نہیں اپنایا جا سکتا؟

🏛️ جیل حکام کا مؤقف اور برطانوی دور کے رولز

  • سرکاری اسپتال کی شرط: دوسری جانب جیل حکام کے مطابق قیدی نے اسپیشل علاج کی درخواست سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو دی تھی، تاہم جیل رولز کے مطابق قیدی کو جیل کے باہر صرف سرکاری اسپتال میں ہی منتقل کیا جا سکتا ہے۔
  • تاریخی پس منظر: وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جیل رولز میں “سول اسپتال” کی اصطلاح برطانوی دورِ حکومت میں پہلی بار سول اور ملٹری اسپتال کی ٹرم کے طور پر متعارف کروائی گئی تھی۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت جاری رکھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *